صحیح بخاری حدیث ۴۷۹۹ - حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیا
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیا: ایذا سے بچنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۷۹۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۹۹
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، وَمُحَمَّدٍ ، وَخِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مُوسَى كَانَ رَجُلًا حَيِيًّا ، وَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا سورة الأحزاب آية 69 " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام بڑے باحیاء تھے، انہیں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے «يا أيها الذين آمنوا لا تكونوا كالذين آذوا موسى فبرأه الله مما قالوا وكان عند الله وجيها» کہ ”اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو ایذا پہنچائی تھی، سو اللہ نے انہیں بَری ثابت کر دیا اور اللہ کے نزدیک وہ بڑے عزت والے تھے۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۷۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام بڑے باحیا تھے۔ پھر آپ نے قرآن کی آیت کا حوالہ دیا جس میں ایمان والوں کو تنبیہ کی گئی کہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو ایذا دی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان باتوں سے بری ثابت فرمایا اور وہ اللہ کے نزدیک عزت والے تھے۔ اس حدیث کا اصل موضوع حیا، نبی کے ادب، اور کسی پاک بندے کو اذیت دینے سے بچنا ہے۔ روایت میں موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اللہ کی طرف سے صفائی اور عزت کا ذکر ہے۔ اس سے مسلمان کو یہ سبق ملتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے بارے میں زبان بہت احتیاط سے استعمال کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- موسیٰ علیہ السلام کو حدیث میں بہت باحیا بتایا گیا ہے۔
- انبیاء علیہم السلام کو ایذا دینے والی باتوں سے بچنا چاہیے۔
- اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کہی گئی باتوں سے بری فرمایا۔
- اللہ کے نزدیک عزت پانا بڑی نعمت ہے۔
