صحیح بخاری حدیث ۴۸۰۰ - کاہنوں کی بات اور شیطان کی چوری
کاہنوں اور شیاطین کی حدیث: ایک بات کے ساتھ سو جھوٹ
صحیح بخاری : ۴۸۰۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۰۰
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، قَالَ : سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَضَى اللَّهُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ ، كَأَنَّهُ سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ ، قَالُوا : مَاذَا ؟ قَالَ : رَبُّكُمْ ، قَالُوا : لِلَّذِي قَالَ الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ ، فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُ السَّمْعِ ، وَمُسْتَرِقُ السَّمْعِ هَكَذَا بَعْضُهُ فَوْقَ بَعْضٍ ، وَوَصَفَ سُفْيَانُ بِكَفِّهِ ، فَحَرَفَهَا وَبَدَّدَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، فَيَسْمَعُ الْكَلِمَةَ ، فَيُلْقِيهَا إِلَى مَنْ تَحْتَهُ ، ثُمَّ يُلْقِيهَا الْآخَرُ إِلَى مَنْ تَحْتَهُ ، حَتَّى يُلْقِيَهَا عَلَى لِسَانِ السَّاحِرِ أَوِ الْكَاهِنِ ، فَرُبَّمَا أَدْرَكَ الشِّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُلْقِيَهَا ، وَرُبَّمَا أَلْقَاهَا قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُ ، فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ ، فَيُقَالُ : أَلَيْسَ قَدْ قَالَ لَنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا ، فَيُصَدَّقُ بِتِلْكَ الْكَلِمَةِ الَّتِي سَمِعَ مِنَ السَّمَاءِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان پر کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کو سن کر جھکتے ہوئے عاجزی کرتے ہوئے اپنے بازو پھڑپھڑاتے ہیں۔ اللہ کا فرمان انہیں اس طرح سنائی دیتا ہے جیسے صاف چکنے پتھر پر زنجیر چلانے سے آواز پیدا ہوتی ہے۔ پھر جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو جاتی ہے تو وہ آپس میں پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟وہ کہتے ہیں کہ حق بات کا حکم فرمایا اور وہ بہت اونچا، سب سے بڑا ہے پھر ان کی یہی گفتگو چوری چھپے سننے والے شیطان سن بھاگتے ہیں، شیطان آسمان کے نیچے یوں نیچے اوپر ہوتے ہیں، سفیان نے اس موقع پر ہتھیلی کو موڑ کر انگلیاں الگ الگ کر کے شیاطین کے جمع ہونے کی کیفیت بتائی کہ اس طرح شیطان ایک کے اوپر ایک رہتے ہیں۔ پھر وہ شیاطین کوئی ایک کلمہ سن لیتے ہیں اور اپنے نیچے والے کو بتاتے ہیں۔ اس طرح وہ کلمہ ساحر یا کاہن تک پہنچتا ہے۔کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ اس سے پہلے کہ وہ یہ کلمہ اپنے سے نیچے والے کو بتائیں آگ کا گولا انہیں آ ڈبوچتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جب وہ بتا لیتے ہیں تو آگ کا انگارا ان پر پڑتا ہے، اس کے بعد کاہن اس میں سو جھوٹ ملا کر لوگوں سے بیان کرتا ہے (ایک بات جب اس کاہن کی صحیح ہو جاتی ہے تو ان کے ماننے والوں کی طرف سے) کہا جاتا ہے کہ کیا اسی طرح ہم سے فلاں دن کاہن نہیں کہا تھا، اسی ایک کلمہ کی وجہ سے جو آسمان پر شیاطین نے سنا تھا کاہنوں اور ساحروں کی بات کو لوگ سچا جاننے لگتے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی بات کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرشتے عاجزی سے اپنے بازو پھڑپھڑاتے ہیں۔ پھر جب گھبراہٹ دور ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ رب نے حق فرمایا، اور وہ بلند و بڑا ہے۔ شیاطین چوری چھپے سننے کی کوشش کرتے ہیں، ایک بات اوپر سے نیچے منتقل کرتے ہیں، پھر وہ بات ساحر یا کاہن تک پہنچتی ہے۔ کبھی شہاب انہیں پکڑ لیتا ہے، اور کبھی وہ بات پہنچا دیتے ہیں۔ پھر کاہن اس میں سو جھوٹ ملا کر بیان کرتا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ کاہنوں اور ساحروں کی بات پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ ان کے پاس اگر کوئی بات پہنچ بھی جائے تو اس کے ساتھ بہت جھوٹ ملا دیا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کا فیصلہ حق ہے اور فرشتے اس کے سامنے عاجزی کرتے ہیں۔
- شیاطین آسمانی بات چوری چھپے سننے کی کوشش کرتے ہیں۔
- کاہن ایک بات کے ساتھ بہت جھوٹ ملا کر بیان کرتا ہے۔
- کاہنوں اور ساحروں کی بات کو دین کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
