صحیح بخاری حدیث ۶۲۱۳ - کاہنوں کی باتوں کی حقیقت

کاہنوں کی حقیقت: ایک سچی بات کے ساتھ سو سے زیادہ جھوٹ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۱۳

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ ، يَقُولُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكُهَّانِ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسُوا بِشَيْءٍ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا بِالشَّيْءِ يَكُونُ حَقًّا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ ، فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ " .

عائشہ روایت:

کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ان کی (پیشین گوئیوں کی) کوئی حیثیت نہیں۔صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لیکن وہ بعض اوقات ایسی باتیں کرتے ہیں جو صحیح ثابت ہوتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بات، سچی بات ہوتی ہے جسے جِن فرشتوں سے سن کر اڑا لیتا ہے اور پھر اسے اپنے ولی (کاہن) کے کان میں مرغ کی آواز کی طرح ڈالتا ہے۔ اس کے بعد کاہن اس (ایک سچی بات میں) سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۶۲۱۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ کبھی ان کی کوئی بات درست بھی نکلتی ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ وہ ایک سچی بات ہوتی ہے جسے جن فرشتوں سے سن کر اڑا لیتا ہے، پھر اسے اپنے ولی یعنی کاہن کے کان میں ڈالتا ہے، اور کاہن اس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ کاہنوں اور غیب دانی کے دعووں پر بھروسا نہیں کرنا چاہیے۔ کبھی کوئی بات درست نکل آنا ان کے سچ کا ثبوت نہیں، کیونکہ حدیث کے مطابق اس کے ساتھ بہت سا جھوٹ شامل کیا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کاہنوں کی باتوں کو قابل اعتماد نہ سمجھا جائے۔
  • کسی ایک بات کا درست نکل آنا جھوٹے دعووں کو سچا نہیں بنا دیتا۔
  • حدیث کے مطابق کاہن ایک سچی بات میں سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں۔
  • غیب کے دعووں میں دھوکا اور جھوٹ سے بچنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں