صحیح بخاری حدیث ۷۵۶۱ - کاہنوں کی بات کا اعتبار نہیں
کاہنوں کے بارے میں حدیث: ایک سچ کے ساتھ بہت سے جھوٹ
صحیح بخاری : ۷۵۶۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۵۶۱
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ . ح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : " سَأَلَ أُنَاسٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكُهَّانِ ؟ ، فَقَالَ : إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِشَيْءٍ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ بِالشَّيْءِ يَكُونُ حَقًّا ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ ، فَيُقَرْقِرُهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ كَقَرْقَرَةِ الدَّجَاجَةِ ، فَيَخْلِطُونَ فِيهِ أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ " .
عروہ بن زبیر روایت:
عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے متعلق سوال کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی کسی بات کا اعتبار نہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ لوگ بعض ایسی باتیں بیان کرتے ہیں جو صحیح ثابت ہوتی ہیں۔ بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ صحیح بات وہ ہے جسے شیطان فرشتوں سے سن کر یاد رکھ لیتا ہے اور پھر اسے مرغی کے کٹ کٹ کرنے کی طرح (کاہنوں) کے کانوں میں ڈال دیتا ہے اور یہ اس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملاتے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۷۵۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع کاہنوں کی بات ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی کسی بات کا اعتبار نہیں۔ لوگوں نے عرض کیا کہ کبھی وہ ایسی بات کہہ دیتے ہیں جو صحیح ثابت ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ وہ ایک صحیح بات ہوتی ہے جسے شیطان فرشتوں سے سن کر یاد رکھ لیتا ہے، پھر اسے اپنے ساتھی کے کان میں ڈال دیتا ہے، اور کاہن اس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ اس حدیث میں کاہن، غیب کی خبریں، شیطان، ایک سچی بات، اور جھوٹ ملانا جیسے الفاظ اہم ہیں۔ حدیث کا صاف پیغام ہے کہ کاہنوں پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کاہنوں کی باتوں کا اعتبار نہیں کیا گیا۔
- کبھی ایک بات درست ہو تو بھی اس کے ساتھ بہت جھوٹ مل سکتا ہے۔
- غیب کے نام پر باتیں سنانے والوں سے محتاط رہنا چاہیے۔
- سچ اور جھوٹ کے ملاپ سے دھوکا پیدا ہو سکتا ہے۔
