صحیح بخاری حدیث ۶۲۱۲ - خوف کے وقت بہادری

خوف کے وقت بہادری: مدینہ میں نبی صلى الله عليه وسلم کا فوری جائزہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۱۲

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ ، فَقَالَ : " مَا رَأَيْنَا مِنْ شَيْءٍ ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا " .

انس بن مالک روایت:

مدینہ منورہ پر (ایک رات نامعلوم آواز کی وجہ سے) ڈر طاری ہو گیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ کے ایک گھوڑے پر سوار ہوئے۔ پھر (واپس آ کر) فرمایا ”ہمیں تو کوئی (خوف کی) چیز نظر نہ آئی، البتہ یہ گھوڑا تو گویا دریا تھا۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۲۱۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں مدینہ منورہ میں ایک رات خوف کی کیفیت پیدا ہونے کا ذکر ہے۔ لوگ نامعلوم آواز یا خطرے کی وجہ سے پریشان ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر سوار ہوئے اور خود جا کر صورتحال دیکھی۔ واپس آ کر فرمایا کہ ہمیں کوئی خوف کی چیز نظر نہیں آئی، اور گھوڑے کے بارے میں فرمایا کہ یہ تو گویا دریا تھا۔ یہاں اصل پیغام یہ ہے کہ خوف کے وقت ذمہ دار آدمی بات کو خود دیکھتا ہے، صرف افواہ یا ڈر پر نہیں چلتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اطمینان دیا اور گھوڑے کی تیزی کو خوبصورت مثال سے بیان فرمایا۔ حدیث میں بہادری، فوری اقدام اور لوگوں کو تسلی دینے کا انداز موجود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خوف کے وقت گھبراہٹ پھیلانے کے بجائے حقیقت معلوم کرنی چاہیے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے خود جا کر صورتحال دیکھی اور لوگوں کو اطمینان دیا۔
  • اچھے کام یا خوبی کو مناسب انداز میں سراہا جا سکتا ہے۔
  • ذمہ داری کے وقت عملی قدم اٹھانا اس روایت سے ظاہر ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں