صحیح بخاری حدیث ۶۲۱۱ - کمزور عورتوں کے ساتھ احتیاط

کمزور عورتوں کا خیال: لا تکسر القواریر حدیث کا آسان مفہوم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۱۱

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَادٍ يُقَالُ لَهُ : أَنْجَشَةُ ، وَكَانَ حَسَنَ الصَّوْتِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ ، لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ " ، قَالَ قَتَادَةُ : يَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَاءِ .

انس بن مالک روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حدی خواں تھے انجشہ نامی ان کی آواز بڑی اچھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ”انجشہ! آہستہ چال اختیار کر، ان شیشوں کو مت توڑ۔“ قتادہ نے بیان کیا کہ مراد کمزور عورتیں تھیں (کہ سواری سے گر نہ جائیں)۔

صحیح بخاری حدیث ۶۲۱۱ کا خلاصہ

اس روایت میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حدی خواں تھے جن کا نام انجشہ تھا، اور ان کی آواز اچھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ آہستہ چلو، ان شیشوں کو نہ توڑو۔ قتادہ نے وضاحت کی کہ مراد کمزور عورتیں تھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھی آواز یا تیز حدی اگر سواریوں کو تیز کر دے تو عورتوں کے لیے خطرہ یا تکلیف بن سکتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وجہ سے انجشہ کو نرمی کا حکم دیا۔ حدیث کا پیغام صرف سفر تک محدود نہیں، بلکہ کمزور لوگوں کے ساتھ احتیاط اور نرم رویہ اختیار کرنے کی عملی تعلیم بھی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اچھی آواز یا جوش بھی اگر دوسروں کے لیے تکلیف بنے تو اسے قابو میں رکھنا چاہیے۔
  • کمزور عورتوں کی حفاظت اور آرام کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے خطرے کا امکان دیکھ کر احتیاط کی ہدایت دی۔
  • نرمی کا حکم عملی حالات کے مطابق دیا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں