صحیح بخاری حدیث ۶۲۰۹ - عورتوں کے ساتھ نرمی
عورتوں کے ساتھ نرمی کی حدیث: اے انجشہ شیشوں کو آہستہ لے چلو
صحیح بخاری : ۶۲۰۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۰۹
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَحَدَا الْحَادِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْفُقْ يَا أَنْجَشَةُ وَيْحَكَ بِالْقَوَارِيرِ " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، راستہ میں حدی خواں نے حدی پڑھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے انجشہ! شیشوں کو آہستہ آہستہ لے کر چل، تجھ پر افسوس۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۲۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سفر کا ایک مختصر مگر بہت معنی خیز واقعہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے۔ راستے میں حدی خواں نے حدی پڑھی، یعنی اونٹوں کو چلانے کے لیے آواز لگائی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انجشہ سے فرمایا کہ شیشوں کو آہستہ آہستہ لے کر چل۔ یہاں شیشوں سے مراد عورتیں ہیں، جیسا کہ اسی مضمون کی دوسری روایت میں وضاحت آتی ہے۔ اس حدیث کا اصل پیغام نرمی، احتیاط اور عورتوں کی سواریوں کا خیال رکھنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت الفاظ کے بجائے نرم اور خوبصورت انداز میں توجہ دلائی کہ رفتار یا آواز سے سوار عورتوں کو تکلیف نہ ہو۔ یہ حدیث روزمرہ زندگی میں بھی احتیاط اور نرم مزاجی سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں کمزور یا نازک حال لوگوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
- عورتوں کی سواریوں کے معاملے میں نرمی اور احتیاط مطلوب ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اصلاح کے لیے نرم اور بامعنی الفاظ استعمال فرمائے۔
- رفتار یا انداز ایسا نہ ہو جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچے۔
