صحیح بخاری حدیث ۶۲۱۰ - سواری میں عورتوں کا خیال

سفر میں عورتوں کا خیال: انجشہ اور شیشوں والی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۱۰

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَأَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ وَكَانَ غُلَامٌ يَحْدُو بِهِنَّ يُقَالُ لَهُ : أَنْجَشَةُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ " ، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : يَعْنِي النِّسَاءَ .

انس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، انجشہ نامی غلام عورتوں کی سواریوں کو حدی پڑھتا لے کر چل رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ”انجشہ! شیشوں کو آہستہ لے چل۔“ ابوقلابہ نے بیان کیا کہ مراد عورتیں تھیں۔

صحیح بخاری حدیث ۶۲۱۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سفر بیان ہوا ہے۔ انجشہ نامی غلام عورتوں کی سواریوں کو حدی پڑھتا ہوا لے جا رہا تھا۔ حدی کی آواز سے اونٹ تیز ہو سکتے تھے، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انجشہ، شیشوں کو آہستہ لے چل۔ ابوقلابہ نے وضاحت کی کہ شیشوں سے مراد عورتیں تھیں۔ اس سے حدیث کا پیغام بہت واضح ہو جاتا ہے کہ عورتوں کی سواری، آرام اور حفاظت کا خیال رکھا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری چلانے والے کو براہ راست متوجہ کیا تاکہ رفتار یا جوش سے سوار خواتین کو پریشانی نہ ہو۔ یہ حدیث نرمی، احتیاط اور ذمہ دارانہ رویے کی تعلیم دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سفر میں سواری چلانے والے کو سواروں کی حالت کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • عورتوں کے ساتھ نرمی اور احتیاط اس حدیث میں صاف طور پر موجود ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے مسئلہ دیکھ کر فوراً مناسب ہدایت دی۔
  • خوبصورت الفاظ میں اصلاح کرنا بھی نبوی طریقہ ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں