صحیح بخاری حدیث ۲۸۲۰ - نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بہادری اور سخاوت کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۲۰

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ ، وَأَشْجَعَ النَّاسِ ، وَأَجْوَدَ النَّاسِ ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَبَقَهُمْ عَلَى فَرَسٍ ، وَقَالَ : وَجَدْنَاهُ بَحْرًا " .

انس بن مالک روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ حسین (خوبصورت) سب سے زیادہ بہادر اور سب سے زیادہ فیاض تھے ‘ مدینہ طیبہ کے تمام لوگ (ایک رات) خوف زدہ تھے (آواز سنائی دی تھی اور سب لوگ اس کی طرف بڑھ رہے تھے) لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک گھوڑے پر سوار سب سے آگے تھے (جب واپس ہوئے تو) فرمایا اس گھوڑے کو (دوڑنے میں) ہم نے سمندر پایا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۸۲۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوبصورت، سب سے زیادہ بہادر، اور سب سے زیادہ فیاض تھے۔ ایک رات مدینہ کے لوگ کسی آواز سے خوف زدہ ہوئے۔ لوگ اس طرف بڑھ رہے تھے، مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی گھوڑے پر سوار ہو کر آگے جا چکے تھے۔ واپس آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر پایا، یعنی بہت تیز اور رواں پایا۔ اس حدیث کا موضوع شجاعت رسول، سخاوت، حسن اخلاق، اور خوف کے وقت پیش قدمی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بہادری یہاں صرف الفاظ میں نہیں، بلکہ عمل میں دکھائی دیتی ہے کہ آپ سب سے پہلے خبر لینے گئے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم خوف کے وقت سب سے آگے بڑھتے تھے۔
  • حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبصورتی، شجاعت اور سخاوت کا ذکر ہے۔
  • قیادت کا ایک پہلو یہ ہے کہ خطرے کے وقت دوسروں سے پہلے ذمہ داری لی جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں