صحیح بخاری حدیث ۲۸۱۹ - ان شاء اللہ کہنے کی اہمیت
ان شاء اللہ کہنے کی حدیث: سلیمان علیہ السلام کا واقعہ
صحیح بخاری : ۲۸۱۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۱۹
اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَلَيْهِمَا السَّلَام : " لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى مِائَةِ امْرَأَةٍ أَوْ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ كُلُّهُنَّ يَأْتِي بِفَارِسٍ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَالَ : لَهُ صَاحِبُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَلَمْ يَقُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَلَمْ يَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ جَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعُونَ " .
ابوہریرہ روایت:
´لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن ہرمز نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘` ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلیمان بن داؤد علیہما السلام نے فرمایا آج رات اپنی سو یا (راوی کو شک تھا) ننانوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر بیوی ایک ایک شہسوار جنے گی جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کریں گے۔ان کے ساتھی نے کہا کہ ان شاءاللہ بھی کہہ لیجئے لیکن انہوں نے ان شاءاللہ نہیں کہا۔ چنانچہ صرف ایک بیوی حاملہ ہوئیں اور ان کے بھی آدھا بچہ پیدا ہوا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر سلیمان علیہ السلام اس وقت ان شاءاللہ کہہ لیتے تو (تمام بیویاں حاملہ ہوتیں اور) سب کے یہاں ایسے شہسوار بچے پیدا ہوتے جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۸۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سلیمان بن داؤد علیہما السلام کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ آج رات اپنی سو یا ننانوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر ایک سے ایک شہسوار پیدا ہوگا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا۔ ان کے ساتھی نے کہا کہ ان شاء اللہ بھی کہہ لیجیے، مگر انہوں نے ان شاء اللہ نہیں کہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صرف ایک بیوی حاملہ ہوئی اور اس کے بھی آدھا بچہ پیدا ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ ان شاء اللہ کہہ لیتے تو سب شہسوار اللہ کے راستے میں جہاد کرتے۔ اس حدیث کا موضوع ان شاء اللہ، اللہ کی مشیت، ارادہ، اور مستقبل کے کام کو اللہ کے سپرد کرنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مستقبل کے ارادے میں ان شاء اللہ کہنا اللہ کی مشیت کو یاد دلاتا ہے۔
- بندے کا ارادہ اللہ کی چاہت کے بغیر پورا نہیں ہوتا۔
- نیک مقصد کے ساتھ بھی اللہ پر انحصار ضروری ہے۔
