صحیح بخاری حدیث ۶۶۰۷ - اعمال کا اعتبار خاتمہ پر ہے
اعمال کا اعتبار خاتمہ پر ہے: انجام کی اہم حدیث
صحیح بخاری : ۶۶۰۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۰۷
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَعْظَمِ الْمُسْلِمِينَ غَنَاءً عَنِ الْمُسْلِمِينَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا " ، فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ حَتَّى جُرِحَ ، فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ فَجَعَلَ ذُبَابَةَ سَيْفِهِ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ، حَتَّى خَرَجَ مِنْ بَيْنِ كَتِفَيْهِ ، فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْرِعًا ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : قُلْتَ لِفُلَانٍ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَيْهِ ، وَكَانَ مِنْ أَعْظَمِنَا غَنَاءً عَنِ الْمُسْلِمِينَ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لَا يَمُوتُ عَلَى ذَلِكَ ، فَلَمَّا جُرِحَ اسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ : " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ ، وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ " .
سہل بن سعد روایت:
ایک شخص جو مسلمانوں کی طرف سے بڑی بہادری سے لڑ رہا تھا اور اس غزوہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور فرمایا کہ جو کسی جہنمی شخص کو دیکھنا چاہتا ہے وہ اس شخص کو دیکھ لے چنانچہ وہ شخص جب اسی طرح لڑنے میں مصروف تھا اور مشرکین کو اپنی بہادری کی وجہ سے سخت تر تکالیف میں مبتلا کر رہا تھا تو ایک مسلمان اس کے پیچھے پیچھے چلا، آخر وہ شخص زخمی ہو گیا اور جلدی سے مر جانا چاہا، اس لیے اس نے اپنی تلوار کی دھار اپنے سینے پر لگا لی اور تلوار اس کے شانوں کو پار کرتی ہوئی نکل گئی۔اس کے بعد پیچھا کرنے والا شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوڑتا ہوا حاضر ہوا اور عرض کیا، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بات کیا ہے؟ ان صاحب نے کہا کہ آپ نے فلاں شخص کے بارے میں فرمایا تھا کہ جو کسی جہنمی کو دیکھنا چاہتا ہے وہ اس شخص کو دیکھ لے حالانکہ وہ شخص مسلمانوں کی طرف سے بڑی بہادری سے لڑ رہا تھا۔ میں سمجھا کہ وہ اس حالت میں نہیں مرے گا۔ لیکن جب وہ زخمی ہو گیا تو جلدی سے مر جانے کی خواہش میں اس نے خودکشی کر لی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ دوزخیوں کے سے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے (اسی طرح دوسرا بندہ) جنتیوں کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ دوزخی ہوتا ہے، بلاشبہ عملوں کا اعتبار خاتمہ پر ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص کا واقعہ بیان ہوا ہے جو مسلمانوں کی طرف سے بہت بہادری سے لڑ رہا تھا۔ دیکھنے والے کو لگتا تھا کہ وہ بہت بڑا مجاہد ہے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو جہنمی کو دیکھنا چاہے وہ اسے دیکھ لے۔ ایک صحابی اس کے پیچھے گئے۔ جب وہ زخمی ہوا تو اس نے جلدی موت چاہی اور اپنی جان خود ختم کر لی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ کبھی اہل جہنم جیسے عمل کرتا دکھائی دیتا ہے حالانکہ وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے، اور کبھی اہل جنت جیسے عمل کرتا دکھائی دیتا ہے حالانکہ وہ اہل جہنم میں سے ہوتا ہے، بلاشبہ اعمال کا اعتبار خاتمہ پر ہے۔ یہ اعمال کا خاتمہ حدیث ہمیں اپنے انجام کے بارے میں فکر، عاجزی اور اللہ سے مدد مانگنے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی شخص کے ظاہری عمل سے اس کے آخری انجام کا قطعی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
- اعمال کا اعتبار خاتمہ پر ہے، اس لیے انجام کی فکر ضروری ہے۔
- تکلیف یا زخم کی حالت میں اپنی جان ختم کرنا اس روایت میں سخت برے انجام کے طور پر آیا ہے۔
- انسان کو اپنے عمل پر غرور کے بجائے اللہ سے ثابت قدمی مانگنی چاہیے۔
