صحیح بخاری حدیث ۲۸۲۱ - نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت اور سچائی

تم مجھے بخیل، جھوٹا یا بزدل نہیں پاؤ گے: حدیث کی شرح

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۲۱

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ ، أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ النَّاسُ مَقْفَلَهُ مِنْ حُنَيْنٍ ، فَعَلِقَهُ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ حَتَّى اضْطَرُّوهُ إِلَى سَمُرَةٍ فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ ، فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَعْطُونِي رِدَائِي لَوْ كَانَ لِي عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ، ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا ، وَلَا كَذُوبًا ، وَلَا جَبَانًا " .

جبیر بن مطعم روایت:

´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ انہیں عمر بن جبیر بن مطعم نے خبر دی ‘ انہیں محمد بن جبیر نے خبر دی کہا کہ مجھے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے، آپ کے ساتھ اور بہت سے صحابہ بھی تھے۔ وادی حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے کہ کچھ (بدو) لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گئے۔بالآخر آپ کو مجبوراً ایک ببول کے درخت کے پاس جانا پڑا۔ وہاں آپ کی چادر مبارک ببول کے کانٹے میں الجھ گئی تو ان لوگوں نے اسے لے لیا (تاکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کچھ عنایت فرمائیں تو چادر واپس کریں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کھڑے ہو گئے اور فرمایا میری چادر مجھے دے دو ‘ اگر میرے پاس درخت کے کانٹوں جتنے بھی اونٹ بکریاں ہوتیں تو میں تم میں تقسیم کر دیتا ‘ مجھے تم بخیل نہیں پاؤ گے اور نہ جھوٹا اور نہ بزدل پاؤ گے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۸۲۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس آ رہے تھے، لوگ آپ سے مانگنے کے لیے لپٹ گئے، یہاں تک کہ آپ کو ایک ببول کے درخت کے پاس جانا پڑا۔ آپ کی چادر کانٹوں میں الجھ گئی اور لوگوں نے اسے لے لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے اور فرمایا کہ میری چادر واپس دو۔ پھر فرمایا کہ اگر میرے پاس اس درخت کے کانٹوں کی تعداد کے برابر بھی اونٹ بکریاں ہوتیں تو میں تم میں تقسیم کر دیتا۔ پھر فرمایا کہ تم مجھے بخیل، جھوٹا اور بزدل نہیں پاؤ گے۔ اس حدیث کا موضوع سخاوت رسول، سچائی، شجاعت، اور لوگوں کے ساتھ نرم معاملہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی سخی تھے۔
  • آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بارے میں بخل، جھوٹ اور بزدلی کی نفی فرمائی۔
  • لوگوں کے سخت رویے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نرم انداز میں بات کی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں