صحیح بخاری حدیث ۶۳۷۱ - سستی اور بخل سے پناہ

سستی، بزدلی، بڑھاپے اور بخل سے پناہ کی دعا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۷۱

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يَتَعَوَّذُ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَرَمِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ " .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پناہ مانگتے تھے اور کہتے تھے کہ «اللهم إني أعوذ بك من الكسل، وأعوذ بك من الجبن، وأعوذ بك من الهرم، وأعوذ بك من البخل» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں بزدلی سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں ناکارہ بڑھاپے سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں بخل سے۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۳۷۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پناہ مانگتے تھے اور یہ کلمات کہتے تھے: اے اللہ! میں سستی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، ناکارہ بڑھاپے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اس دعا میں چار چیزیں بیان ہوئی ہیں جو انسان کے عمل، ہمت، عمر اور اخلاق پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ سستی انسان کو اچھے کام سے روکتی ہے۔ بزدلی انسان کی ہمت کم کرتی ہے۔ ناکارہ بڑھاپا کمزوری کی حالت ہے۔ بخل دل کو تنگ کر دیتا ہے اور خیر کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ یہ دعا مختصر ہونے کے باوجود روزانہ کی زندگی کے لیے بہت فائدہ مند یاد دہانی ہے کہ انسان اپنی اصل مدد اللہ سے مانگے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سستی سے بچنے کے لیے اللہ سے پناہ مانگنی چاہیے۔
  • بزدلی اور بخل ایسی کمزوریاں ہیں جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پناہ مانگتے تھے۔
  • بڑھاپے کی کمزور حالت سے حفاظت اللہ سے مانگی جاتی ہے۔
  • مختصر دعا بھی انسان کو اپنی اصلاح کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں