صحیح بخاری حدیث ۶۲۱۴ - وحی کے وقفے کے بعد فرشتہ
وحی کا وقفہ اور فرشتہ: غار حرا والے فرشتے کا دوبارہ آنا
صحیح بخاری : ۶۲۱۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۱۴
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ : أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " ثُمَّ فَتَرَ عَنِّي الْوَحْيُ فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي إِلَى السَّمَاءِ ، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ " .
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن روایت:
مجھے جابر بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میرے پاس وحی آنے کا سلسلہ بند ہو گیا۔ ایک دن میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان کی طرف سے ایک آواز سنی، میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو میں نے پھر اس فرشتہ کو دیکھا جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا، وہ آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۲۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے وقفے کا ذکر فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے کہ آسمان کی طرف سے آواز سنی۔ جب آسمان کی طرف دیکھا تو وہی فرشتہ نظر آیا جو غار حرا میں آیا تھا۔ وہ فرشتہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس روایت میں وحی، فرشتہ اور نبوت کے آغاز سے متعلق ایک اہم واقعہ بیان ہوا ہے۔ ہمیں اس متن میں بس اتنی ہی تفصیل ملتی ہے کہ وحی کا سلسلہ کچھ وقت کے لیے رکا، پھر آسمان سے آواز آئی، اور وہی فرشتہ دوبارہ دکھائی دیا۔ اس حدیث کو سمجھتے وقت الفاظ کے اندر رہنا چاہیے اور غیر ضروری تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وحی کا معاملہ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے، انسان کے اختیار سے نہیں۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے جو دیکھا اور سنا، وہی صاف الفاظ میں بیان فرمایا۔
- غار حرا والے فرشتے کا دوبارہ آنا اس روایت کا مرکزی واقعہ ہے۔
- حدیث کے متن سے آگے بڑھ کر تفصیل بیان نہیں کرنی چاہیے۔
