صحیح بخاری حدیث ۴۸۰۸ - نماز میں خلل ڈالنے والا جن
نماز میں خلل ڈالنے والے جن کا واقعہ اور سلیمان علیہ السلام کی دعا
صحیح بخاری : ۴۸۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۰۸
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ ، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ ، فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ : رَبِّ وَهَبْ لِي مُلْكًا لا يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي سورة ص آية 35 ، قَالَ رَوْحٌ : فَرَدَّهُ خَاسِئًا .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گزشتہ رات ایک سرکش جِن اچانک میرے پاس آیا، یا اسی طرح کا کلمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تاکہ میری نماز خراب کرے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قدرت دے دی اور میں نے سوچا کہ اسے مسجد کے ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح کے وقت تم سب لوگ بھی اسے دیکھ سکو۔ پھر مجھ کو اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آ گئی «رب هب لي ملكا لا ينبغي لأحد من بعدي» کہ ”اے میرے رب! مجھے ایسی سلطنت دے کہ میرے بعد کسی کو میسر نہ ہو۔“ روح نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جِن کو ذلت کے ساتھ بھگا دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۰۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع نماز کی حفاظت اور اللہ کی مدد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ ایک سرکش جن رات کو اچانک آیا تاکہ آپ کی نماز خراب کرے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پر قدرت دے دی، یہاں تک کہ آپ نے ارادہ فرمایا کہ اسے مسجد کے ستون سے باندھ دیں تاکہ صبح لوگ اسے دیکھ سکیں۔ پھر آپ کو اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آگئی کہ اے میرے رب! مجھے ایسی بادشاہی عطا فرما جو میرے بعد کسی کو نہ ملے۔ اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باندھا نہیں، بلکہ اسے ذلت کے ساتھ بھگا دیا۔ اس حدیث میں جن، نماز، اللہ کی مدد، اور انبیاء کے احترام کا مضمون ایک ساتھ آتا ہے، مگر بات اسی واقعہ تک محدود رہتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں خلل ڈالنے کی کوشش بھی اللہ کے حکم کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قدرت ہونے کے باوجود سلیمان علیہ السلام کی دعا کا لحاظ فرمایا۔
- اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی مدد فرماتا ہے اور مخالف کو ناکام کر دیتا ہے۔
