صحیح بخاری حدیث ۴۸۱۰ - اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو
توبہ کی امید: اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو
صحیح بخاری : ۴۸۱۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۱۰
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ يَعْلَى : إِنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ كَانُوا قَدْ قَتَلُوا ، وَأَكْثَرُوا ، وَزَنَوْا ، وَأَكْثَرُوا ، فَأَتَوْا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو إِلَيْهِ لَحَسَنٌ لَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً ، فَنَزَلَ : وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ سورة الفرقان آية 68 ، وَنَزَلَ : قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ سورة الزمر آية 53 " .
ابن عباس روایت:
مشرکین میں بعض نے قتل کا گناہ کیا تھا اور کثرت سے کیا تھا۔ اسی طرح زناکاری بھی کثرت سے کرتے رہے تھے۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں اور جس کی طرف دعوت دیتے ہیں (یعنی اسلام) یقیناً اچھی چیز ہے، لیکن ہمیں یہ بتائیے کہ اب تک ہم نے جو گناہ کئے ہیں وہ اسلام لانے سے معاف ہوں گے یا نہیں؟اس پر یہ آیت نازل ہوئی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون» ”اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا اور کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی بھی جان کو قتل نہیں کرتے جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ہے، ہاں مگر حق کے ساتھ“ اور یہ آیت نازل ہوئی «قل يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله» ”آپ کہہ دیں کہ اے میرے بندو! جو اپنے نفسوں پر زیادتیاں کر چکے ہو، اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو، بیشک اللہ سارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ بیشک اللہ وہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۸۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع توبہ اور اللہ کی رحمت ہے۔ کچھ مشرکین نے قتل جیسے بڑے گناہ کیے تھے اور زنا بھی بہت کیا تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ آپ جس چیز کی دعوت دیتے ہیں وہ اچھی ہے، لیکن ہمارے پچھلے اعمال کا کیا ہوگا؟ کیا ان کے لیے کوئی کفارہ ہے؟ اس موقع پر وہ آیات نازل ہوئیں جن میں اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو نہ پکارنے، ناحق قتل نہ کرنے اور زنا سے بچنے کا ذکر ہے۔ ساتھ ہی یہ آیت بھی نازل ہوئی کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ یہ حدیث گناہوں کی معافی، توبہ کی امید، اور اللہ کی مغفرت کا مضبوط پیغام دیتی ہے، مگر اسے سچی واپسی کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بڑے گناہوں کے بعد بھی اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔
- اسلام کی دعوت انسان کو گناہ چھوڑ کر اللہ کی طرف بلاتی ہے۔
- قتل، شرک اور زنا جیسے گناہوں کی سنگینی اس حدیث میں واضح ہے۔
