صحیح بخاری حدیث ۴۸۱۵ - ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع رسول
کیا تم ایک شخص کو اس لیے قتل کرو گے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے؟
صحیح بخاری : ۴۸۱۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۱۵
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : أَخْبِرْنِي بِأَشَدِّ مَا صَنَعَ الْمُشْرِكُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ إِذْ أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ ، فَأَخَذَ بِمَنْكِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوَى ثَوْبَهُ فِي عُنُقِهِ ، فَخَنَقَهُ بِهِ خَنْقًا شَدِيدًا ، فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ ، فَأَخَذَ بِمَنْكِبِهِ ، وَدَفَعَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ " .
عروہ بن زبیر روایت:
میں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ سخت معاملہ مشرکین نے کیا کیا تھا؟ عبداللہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے قریب نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اس نے آپ کا شانہ مبارک پکڑ کر آپ کی گردن میں اپنا کپڑا لپیٹ دیا اور اس کپڑے سے آپ کا گلا بڑی سختی کے ساتھ گھونٹنے لگا۔ اتنے میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور انہوں نے اس بدبخت کا مونڈھا پکڑ کر اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا کیا اور کہا کہ کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کر دینا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے رب کے پاس سے اپنی سچائی کے لیے روشن دلائل بھی ساتھ لایا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع حق پر ثابت قدمی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع ہے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے سخت معاملہ کیا کیا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے قریب نماز پڑھ رہے تھے۔ عقبہ بن ابی معیط آیا، آپ کا کندھا پکڑا، کپڑا آپ کی گردن میں لپیٹا اور سختی سے گلا گھونٹنے لگا۔ اسی وقت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور کیا اور فرمایا کہ کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے، جبکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے روشن دلائل لایا ہے؟ یہ حدیث ایمان، نماز، ظلم کے مقابلے میں کھڑے ہونے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جرأت کو بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت مخالفت کے باوجود نماز اور دعوت کو نہیں چھوڑا۔
- ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خطرے کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا۔
- حق بات کہنے والے پر ظلم کرنا بہت سنگین رویہ ہے۔
