صحیح بخاری حدیث ۴۸۱۶ - اللہ سب سنتا ہے

اللہ سب سنتا ہے: کان اور آنکھیں بھی گواہی دیں گی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۱۶

حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلا أَبْصَارُكُمْ سورة فصلت آية 22 الْآيَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَجُلَانِ مِنْ قُرَيْشٍ وَخَتَنٌ لَهُمَا مِنْ ثَقِيفَ أَوْ رَجُلَانِ مِنْ ثَقِيفَ وَخَتَنٌ لَهُمَا مِنْ قُرَيْشٍ فِي بَيْتٍ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : أَتُرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ يَسْمَعُ حَدِيثَنَا ، قَالَ بَعْضُهُمْ : يَسْمَعُ بَعْضَهُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَئِنْ كَانَ يَسْمَعُ بَعْضَهُ لَقَدْ يَسْمَعُ كُلَّهُ ، فَأُنْزِلَتْ : وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلا أَبْصَارُكُمْ سورة فصلت آية 22 الْآيَةَ " .

ابن مسعود روایت:

´ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے روح بن قاسم نے، ان سے مجاہد نے، ان سے ابومعمر نے اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے` آیت «وما كنتم تستترون أن يشهد، عليكم سمعكم» ”اور تم اس بات سے اپنے کو چھپا نہیں سکتے تھے کہ تمہارے کان گواہی دیں گے۔“ الخ کے متعلق کہا کہ قریش کے دو آدمی اور بیوی کی طرف سے ان کے قبیلہ ثقیف کا کوئی رشتہ دار یا ثقیف کے دو افراد تھے اور بیوی کی طرف قریش کا کوئی رشتہ دار، یہ خانہ کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ان میں سے بعض نے کہا کہ کیا تمہارا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری باتیں سنتا ہو گا ایک نے کہا کہ بعض باتیں سنتا ہے۔ دوسرے نے کہا کہ اگر بعض باتیں سن سکتا ہے تو سب سنتا ہو گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وما كنتم تستترون أن يشهد عليكم سمعكم ولا أبصاركم» ”اور تم اس بات سے اپنے کو چھپا ہی نہیں سکتے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں گواہی دیں گی۔“ آخر آیت «وذلكم ظنكم» تک۔

صحیح بخاری حدیث ۴۸۱۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع اللہ کا سننا، دیکھنا اور بندے کی جواب دہی ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت کی تفسیر میں بتایا کہ چند لوگ خانہ کعبہ کے پاس بیٹھے تھے۔ ان میں سے بعض نے کہا کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ ہماری باتیں سنتا ہے؟ ایک نے کہا کہ بعض باتیں سنتا ہے۔ دوسرے نے کہا کہ اگر وہ بعض سنتا ہے تو سب سنتا ہوگا۔ اسی موقع پر آیت نازل ہوئی کہ تم اس بات سے اپنے آپ کو چھپا نہیں سکتے تھے کہ تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں تمہارے خلاف گواہی دیں گی۔ یہ حدیث انسان کو اپنی گفتگو، سوچ اور عمل میں احتیاط کی یاد دلاتی ہے۔ اللہ کے علم سے کوئی بات پوشیدہ نہیں، اس لیے بندے کو بے فکری میں گناہ کی بات نہیں کرنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ تعالیٰ بندوں کی باتیں سنتا ہے، کوئی بات اس سے چھپی نہیں۔
  • قیامت کے دن انسان کے اعضاء بھی گواہی دیں گے۔
  • اللہ کے بارے میں غلط گمان انسان کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں