صحیح بخاری حدیث ۴۸۱۷ - اعضاء کی گواہی کا مضمون

اللہ کے علم سے کوئی بات چھپی نہیں: اعضاء کی گواہی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۱۷

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بِنَحْوِهِ .

عبداللہ بن مسعود روایت:

ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے منصور نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے، ان سے ابومعمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے پہلی حدیث کی طرح بیان کیا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۸۱۷ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون ہی کی طرح ہے، اس لیے اس کا اصل موضوع بھی اللہ کا سننا اور انسان کی جواب دہی ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے وہی واقعہ نقل ہوا کہ کچھ لوگ آپس میں بات کر رہے تھے کہ اللہ ہماری باتیں سنتا ہے یا نہیں۔ اس گفتگو کے پس منظر میں آیت کا مضمون سامنے آتا ہے کہ انسان اپنے کانوں، آنکھوں اور دوسرے اعضاء کی گواہی سے چھپ نہیں سکتا۔ اس حدیث میں کوئی لمبی بحث نہیں، بلکہ ایک صاف پیغام ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی پوشیدہ اور ظاہر باتوں سے باخبر ہے۔ انسان اگر یہ یقین دل میں رکھے تو زبان، نظر اور عمل میں زیادہ محتاط ہو جاتا ہے۔ یہ حدیث اللہ کے بارے میں درست گمان، آخرت کی جواب دہی، اور اپنے اعضاء کے استعمال کی ذمہ داری سمجھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کے سننے اور جاننے میں شک کرنا درست نہیں۔
  • انسان کے اعضاء قیامت میں اس کے خلاف گواہی دے سکتے ہیں۔
  • مومن کو اپنی باتوں اور کاموں میں اللہ کی نگرانی یاد رکھنی چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں