صحیح بخاری حدیث ۴۸۱۸ - قرابت داری اور صلہ رحمی
صلہ رحمی اور قرابت: إلا المودة في القربى کا مطلب
صحیح بخاری : ۴۸۱۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۱۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ طَاوُسًا ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ : إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى سورة الشورى آية 23 ، فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ : قُرْبَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " عَجِلْتَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا كَانَ لَهُ فِيهِمْ قَرَابَةٌ ، فَقَالَ : " إِلَّا أَنْ تَصِلُوا مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنَ الْقَرَابَةِ " .
عبدالملک بن میسرہ روایت:
میں نے طاؤس سے سنا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «إلا المودة في القربى» ”سوا رشتہ داری کی محبت کے“ متعلق پوچھا گیا تو سعید بن جبیر نے فرمایا کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابتداری مراد ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس پر کہا کہ تم نے جلد بازی کی۔ قریش کی کوئی شاخ ایسی نہیں جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری نہ ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم سے صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم اس قرابت داری کی وجہ سے صلہ رحمی کا معاملہ کرو جو میرے اور تمہارے درمیان میں موجود ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۱۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قرابت داری اور صلہ رحمی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت إلا المودة في القربى کے بارے میں پوچھا گیا۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا کہ اس سے آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت مراد ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تم نے جلدی کی، کیونکہ قریش کی کوئی شاخ ایسی نہ تھی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ بیان کیا کہ میں تم سے صرف یہ چاہتا ہوں کہ میرے اور تمہارے درمیان جو رشتہ داری ہے، اس کا لحاظ رکھو۔ اس حدیث میں آیت کی تفسیر میں احتیاط، رشتہ داری کا حق، اور جلد نتیجہ نکالنے سے بچنے کی تعلیم ہے۔ یہ صلہ رحمی کی حدیث بھی ہے اور تفسیر سمجھنے کا ادب بھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رشتہ داری کے تعلق کا لحاظ رکھنا اہم دینی اخلاق میں سے ہے۔
- قرآن کی تفسیر میں جلدی سے حتمی بات نہیں کہنی چاہیے۔
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت کا مطلب قریش کی عام قرابت کے حوالے سے بیان کیا۔
