صحیح بخاری حدیث ۴۸۲۰ - پانچ نشانیاں گزر چکی ہیں
دخان، روم، قمر، بطشہ اور لزام: پانچ گزرے ہوئے واقعات
صحیح بخاری : ۴۸۲۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۲۰
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " مَضَى خَمْسٌ الدُّخَانُ ، وَالرُّومُ ، وَالْقَمَرُ ، وَالْبَطْشَةُ ، وَاللِّزَامُ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
(قیامت کی) پانچ علامتیں گزر چکی ہیں «الدخان» دھواں، «الروم» غلبہ روم، «القمر» چاند کا ٹکڑے ہونا، «والبطشة» پکڑ اور «واللزام» ہلاکت اور قید۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قرآن کی بعض پیشین گوئیوں اور واقعات کا گزر جانا ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پانچ چیزیں گزر چکی ہیں: دخان، روم، قمر، بطشہ اور لزام۔ اس روایت میں تفصیل نہیں، بلکہ مختصر طور پر پانچ واقعات کا نام آیا ہے۔ دخان کا تعلق اسی قحط کے واقعہ سے ہے جسے دوسری روایات میں بھوک کی شدت کے سبب دھواں سا دکھائی دینے کے طور پر بیان کیا گیا۔ روم سے غلبہ روم، قمر سے چاند کا ٹکڑے ہونا، بطشہ سے سخت پکڑ، اور لزام سے ہلاکت و گرفت مراد بیان ہوئی ہے۔ اس حدیث کو سمجھتے وقت متن کی حد میں رہنا ضروری ہے، کیونکہ روایت صرف یہ بتاتی ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے نزدیک یہ پانچ چیزیں گزر چکی تھیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے پانچ واقعات کو گزر چکا بتایا۔
- دخان کا ذکر قحط اور بھوک کے واقعہ سے متعلق روایات میں آیا ہے۔
- مختصر حدیث میں اپنی طرف سے غیر ضروری تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے۔
