صحیح بخاری حدیث ۴۸۲۶ - زمانے کو گالی دینے سے بچیں
زمانے کو گالی دینا کیوں منع ہے؟ توحید کی اہم حدیث
صحیح بخاری : ۴۸۲۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۲۶
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ ، وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِي الْأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے وہ زمانہ کو گالی دیتا ہے حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں، میرے ہی ہاتھ میں سب کچھ ہے۔ میں رات اور دن کو ادلتا بدلتا رہتا ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ مسلمان کو زمانے، وقت یا حالات کو گالی نہیں دینی چاہیے۔ حدیث میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، وہ زمانے کو برا کہتا ہے، حالانکہ رات اور دن کو بدلنے والا اللہ ہی ہے۔ آسان لفظوں میں، وقت خود کچھ نہیں کرتا؛ اصل اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اسی لیے جب کوئی کہتا ہے کہ زمانہ خراب ہے، وقت نے برباد کر دیا، یا قسمت کے انداز میں زمانے کو برا کہتا ہے تو اسے سوچنا چاہیے کہ معاملات اللہ کے حکم سے چلتے ہیں۔ یہ حدیث توحید، اللہ کے اختیار، اور زبان کی حفاظت کا سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زمانے کو گالی دینے سے بچنا چاہیے، کیونکہ رات اور دن اللہ کے حکم سے بدلتے ہیں۔
- مشکل حالات میں الفاظ احتیاط سے بولنے چاہییں۔
- مسلمان کا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ اصل اختیار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
- وقت کو برا کہنے کے بجائے اللہ سے خیر اور آسانی مانگنی چاہیے۔
