صحیح بخاری حدیث ۶۱۸۱ - زمانے کو گالی نہ دو
زمانے کو گالی نہ دو: رات دن اللہ کے اختیار میں ہیں
صحیح بخاری : ۶۱۸۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۸۱
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اللَّهُ يَسُبُّ بَنُو آدَمَ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِي اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ " .
ابوسلمہ روایت:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان زمانہ کو گالی دیتا ہے حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں، میرے ہی ہاتھ میں رات اور دن ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۱۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع زمانے کو برا کہنے سے بچنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان بیان کیا کہ انسان زمانے کو گالی دیتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں، میرے ہاتھ میں رات اور دن ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حالات، دن رات اور وقت کو خود مختار سمجھ کر برا بھلا کہنا درست رویہ نہیں۔ حدیث انسان کو الفاظ سنبھالنے اور اللہ کے اختیار کو یاد رکھنے کی تعلیم دیتی ہے۔ زمانے کو گالی نہ دو، وقت کو برا نہ کہو، اور رات دن اللہ کے ہاتھ میں ہیں جیسے موضوعات اسی روایت سے جڑتے ہیں۔ بات مختصر ہے: شکایت میں بھی زبان محتاط ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زمانے کو گالی دینا درست طرز گفتگو نہیں۔
- رات اور دن اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔
- حالات پر شکوہ کرتے وقت زبان سنبھالنی چاہیے۔
- وقت کو مستقل طاقت سمجھ کر برا نہیں کہنا چاہیے۔
