صحیح بخاری حدیث ۶۱۸۲ - وقت کو برا نہ کہو
وقت کو برا نہ کہو اور الفاظ درست رکھو
صحیح بخاری : ۶۱۸۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۸۲
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُسَمُّوا الْعِنَبَ الْكَرْمَ ، وَلَا تَقُولُوا خَيْبَةَ الدَّهْرِ ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انگور «عنب» کو «كرم» نہ کہو اور یہ نہ کہو کہ ہائے زمانہ کی نامرادی۔ کیونکہ زمانہ تو اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۱۸۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو باتیں بیان ہوئیں۔ پہلی یہ کہ انگور کو کرم نہ کہو۔ دوسری یہ کہ ہائے زمانہ کی نامرادی نہ کہو، کیونکہ زمانہ اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ یہ روایت الفاظ کے انتخاب اور عقیدے کی حفاظت دونوں کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ آدمی کبھی حالات سے تنگ آ کر وقت، زمانے یا دنوں کو برا کہنے لگتا ہے، مگر حدیث بتاتی ہے کہ ایسا نہ کہا جائے۔ اسی طرح چیزوں کے ناموں میں بھی احتیاط سکھائی گئی ہے۔ زمانے کو برا نہ کہو، انگور کو کرم نہ کہو، اور اچھے الفاظ کی حدیث جیسے موضوعات اس روایت سے متعلق ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زمانے کو نامراد یا برا کہنا نہیں چاہیے۔
- وقت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
- چیزوں کے ناموں میں بھی دینی ادب رکھا جائے۔
- زبان کی اصلاح عقیدے کی درستی سے جڑی ہو سکتی ہے۔
