صحیح بخاری حدیث ۶۱۸۰ - گفتگو میں نرم لفظ
گفتگو کا ادب: سخت لفظ کے بجائے نرم لفظ
صحیح بخاری : ۶۱۸۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۸۰
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي ، تَابَعَهُ عُقَيْلٌ " .
´ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، وہ یونس سے روایت کرتے ہیں، وہ زہری سے، وہ ابوامامہ بن سہل سے، وہ اپنے باپ سے،` وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے کوئی ہرگز یوں نہ کہے کہ میرا نفس پلید ہو گیا لیکن یوں کہہ سکتا ہے کہ میرا دل خراب یا پریشان ہو گیا۔“ اس حدیث کو عقیل نے بھی ابن شہاب سے روایت کیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ہرگز یہ نہ کہے کہ میرا نفس پلید ہو گیا، بلکہ یوں کہے کہ میرا دل خراب یا پریشان ہو گیا۔ اس روایت کا موضوع زبان کا ادب اور نرم لفظ کا انتخاب ہے۔ روزمرہ زندگی میں انسان کبھی تھکا ہوا، پریشان یا دل سے بوجھل ہوتا ہے، مگر حدیث سکھاتی ہے کہ ایسے وقت بھی الفاظ اچھے رکھے جائیں۔ یہاں کوئی لمبا حکم نہیں، صرف ایک لفظ بدلنے کی تعلیم ہے، مگر اس سے گفتگو کا معیار بدل جاتا ہے۔ زبان کی حفاظت، اچھی بات، اور مناسب الفاظ کے موضوع پر یہ حدیث بہت آسان اور عملی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سخت اور ناگوار لفظ چھوڑ کر نرم لفظ کہنا بہتر ہے۔
- زبان کی اصلاح روزمرہ جملوں سے شروع ہوتی ہے۔
- اپنی پریشانی بیان کرتے وقت بھی ادب رکھا جائے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظوں کی اصلاح فرمائی۔
