صحیح بخاری حدیث ۴۸۶ - روحاء کے کنارے نماز اور قیام

روحاء کے کنارے نماز: ابن عمر رضی اللہ عنہما کا معمول

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۶

وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُصَلِّي إِلَى الْعِرْقِ الَّذِي عِنْدَ مُنْصَرَفِ الرَّوْحَاءِ ، وَذَلِكَ الْعِرْقُ انْتِهَاءُ طَرَفِهِ عَلَى حَافَةِ الطَّرِيقِ دُونَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمُنْصَرَفِ وَأَنْتَ ذَاهِبٌ إِلَى مَكَّةَ ، وَقَدِ ابْتُنِيَ ثَمَّ مَسْجِدٌ ، فَلَمْ يَكُنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يُصَلِّي فِي ذَلِكَ الْمَسْجِدِ كَانَ يَتْرُكُهُ عَنْ يَسَارِهِ وَوَرَاءَهُ وَيُصَلِّي أَمَامَهُ إِلَى الْعِرْقِ نَفْسِهِ ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَرُوحُ مِنَ الرَّوْحَاءِ فَلَا يُصَلِّي الظُّهْرَ حَتَّى يَأْتِيَ ذَلِكَ الْمَكَانَ فَيُصَلِّي فِيهِ الظُّهْرَ ، وَإِذَا أَقْبَلَ مِنْ مَكَّةَ فَإِنْ مَرَّ بِهِ قَبْلَ الصُّبْحِ بِسَاعَةٍ أَوْ مِنْ آخِرِ السَّحَرِ عَرَّسَ حَتَّى يُصَلِّيَ بِهَا الصُّبْحَ .

عبداللہ بن عمر روایت:

´اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما` اس چھوٹی پہاڑی کی طرف نماز پڑھتے جو روحاء کے آخر کنارے پر ہے اور یہ پہاڑی وہاں ختم ہوتی ہے جہاں راستے کا کنارہ ہے۔ اس مسجد کے قریب جو اس کے اور روحاء کے آخری حصے کے بیچ میں ہے مکہ کو جاتے ہوئے۔ اب وہاں ایک مسجد بن گئی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس مسجد میں نماز نہیں پڑھتے تھے بلکہ اس کو اپنے بائیں طرف مقابل میں چھوڑ دیتے اور آگے بڑھ کر خود پہاڑی عرق الطبیہ کی طرف نماز پڑھتے تھے۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب روحاء سے چلتے تو ظہر اس وقت تک نہ پڑھتے جب تک اس مقام پر نہ پہنچ جاتے۔ جب یہاں آ جاتے تو ظہر پڑھتے، اور اگر مکہ سے آتے ہوئے صبح صادق سے تھوڑی دیر پہلے یا سحر کے آخر میں وہاں سے گزرتے تو صبح کی نماز تک وہیں آرام کرتے اور فجر کی نماز پڑھتے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۸۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک خاص عمل کا ذکر ہے۔ وہ روحاء کے آخری کنارے پر موجود چھوٹی پہاڑی، عرق الطبیہ، کی طرف نماز پڑھتے تھے۔ روایت میں بتایا گیا کہ وہاں بعد میں ایک مسجد بن گئی تھی، مگر ابن عمر رضی اللہ عنہما اس مسجد میں نماز نہیں پڑھتے تھے؛ وہ اسے بائیں طرف چھوڑ کر آگے بڑھتے اور خود پہاڑی کی طرف نماز پڑھتے تھے۔ جب وہ روحاء سے چلتے تو ظہر اس مقام تک پہنچ کر پڑھتے۔ اور اگر مکہ سے واپسی پر صبح سے کچھ پہلے یا سحر کے آخر میں وہاں سے گزرتے تو فجر تک آرام کرتے، پھر فجر پڑھتے۔ اس حدیث میں سفر میں نماز، وقت کی پابندی، مقام کی شناخت اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی احتیاط صاف دکھائی دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلى الله عليه وسلم کے متعلق مقامات کی شناخت کا خیال رکھتے تھے۔
  • سفر میں نماز کے وقت اور مقام دونوں کا ذکر روایت میں آیا ہے۔
  • بعد میں بنی مسجد ہر بار اصل نماز والی جگہ نہیں ہوتی، جیسا کہ اس روایت میں بیان ہے۔
  • دینی روایت میں راستہ، سمت اور قیام کی تفصیل بھی محفوظ رکھی گئی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں