صحیح بخاری حدیث ۸۴۸ - فرض کے بعد اسی جگہ نفل پڑھنا

فرض نماز کے بعد اسی جگہ نفل پڑھنے کی روایت کا مطلب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۴۸

وَقَالَ لَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي فِي مَكَانِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْفَرِيضَةَ وَفَعَلَهُ الْقَاسِمُ وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ لَا يَتَطَوَّعُ الْإِمَامُ فِي مَكَانِهِ وَلَمْ يَصِحَّ .

نافع روایت:

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (نفل) اسی جگہ پر پڑھتے تھے اور جس جگہ فرض پڑھتے اور قاسم بن محمد بن ابی بکر نے بھی اسی طرح کیا ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ امام اپنی (فرض پڑھنے کی) جگہ پر نفل نہ پڑھے اور یہ صحیح نہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۸۴۸ کا خلاصہ

اس روایت میں نافع بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اسی جگہ نفل نماز پڑھتے تھے جہاں انہوں نے فرض نماز پڑھی ہوتی۔ قاسم بن محمد نے بھی ایسا کیا۔ پھر ایک مرفوع روایت کا ذکر آیا کہ امام اپنی فرض والی جگہ پر نفل نہ پڑھے، مگر ساتھ ہی کہا گیا کہ یہ صحیح نہیں۔ اس متن کا اصل موضوع فرض کے بعد نفل نماز ہے۔ یہاں احتیاط یہ ہے کہ حدیث سے وہی بات لی جائے جو واضح ہے: ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل یہ تھا کہ وہ فرض والی جگہ پر نفل پڑھ لیتے تھے، اور ممانعت والی مرفوع روایت کو صحیح نہیں کہا گیا۔ اس سے زیادہ حکم یا تفصیل اس متن میں موجود نہیں، اس لیے وضاحت کو اسی دائرے میں رکھنا بہتر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابن عمرؓ فرض والی جگہ پر نفل پڑھتے تھے۔
  • قاسم بن محمد سے بھی یہی عمل نقل ہوا۔
  • مرفوع ممانعت والی روایت کو متن میں صحیح نہیں کہا گیا۔
  • اس روایت سے زیادہ حکم اپنی طرف سے نہیں بڑھانا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں