صحیح بخاری حدیث ۸۴۹ - سلام کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم کا کچھ دیر ٹھہرنا

سلام کے بعد کچھ دیر بیٹھنے کی حدیث اور عورتوں کی سہولت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۴۹

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا سَلَّمَ يَمْكُثُ فِي مَكَانِهِ يَسِيرًا " ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَنُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ لِكَيْ يَنْفُذَ مَنْ يَنْصَرِفُ مِنَ النِّسَاءِ .

ام سلمہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو کچھ دیر اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے۔ ابن شہاب نے کہا اللہ بہتر جانے ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ آپ اس لیے کرتے تھے تاکہ عورتیں پہلے چلی جائیں۔

صحیح بخاری حدیث ۸۴۹ کا خلاصہ

ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم جب سلام پھیرتے تو کچھ دیر اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے۔ ابن شہاب نے کہا کہ اللہ بہتر جانتا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اس لیے تھا تاکہ عورتیں پہلے چلی جائیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع نماز کے بعد عورتوں کی سہولت ہے۔ یہاں دو باتیں الگ الگ سمجھنی چاہییں: پہلی بات خود حدیث کا متن ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم سلام کے بعد تھوڑی دیر بیٹھتے تھے۔ دوسری بات ابن شہاب کا فہم ہے، جسے انہوں نے یقین کے دعوے کے بجائے اللہ بہتر جانتا ہے کہہ کر بیان کیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسجد میں نظم، پردہ اور لوگوں کی سہولت کا خیال رکھا جاتا تھا۔ لیکن وضاحت کو اسی حد تک رکھنا چاہیے جو روایت میں موجود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم سلام کے بعد کچھ دیر اپنی جگہ پر بیٹھتے تھے۔
  • ابن شہاب کے مطابق اس میں عورتوں کے جانے کی سہولت ہو سکتی تھی۔
  • روایت میں یقین کے بجائے محتاط انداز اختیار کیا گیا ہے۔
  • نماز کے بعد لوگوں کی آسانی کا خیال رکھا جا سکتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں