صحیح بخاری حدیث ۴۸۷۰ - فهل من مدکر اور نصیحت کی دعوت
فهل من مدکر: سورۃ القمر کی قرأت اور نصیحت کا پیغام
صحیح بخاری : ۴۸۷۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۷۰
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّه كَانَ يَقْرَأُ : فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 17 " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «فهل من مدكر» (سو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟) پڑھا کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۷۰ کا خلاصہ
اس روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے «فهل من مدكر» کی قرأت بیان کرتے ہیں۔ ترجمے میں اس کا مطلب آیا ہے: سو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟ حدیث کا اصل موضوع قرآن کی درست قرأت ہے، مگر الفاظ میں نصیحت کا پیغام بھی موجود ہے۔ اس لیے اس روایت کو بیان کرتے وقت دونوں باتیں سامنے رکھی جا سکتی ہیں: ایک یہ کہ نبی صلى الله عليه وسلم یہ لفظ «مدکر» پڑھتے تھے، اور دوسری یہ کہ آیت انسان کو نصیحت کی طرف بلاتی ہے۔ فهل من مدکر کی حدیث، نصیحت کی آیت، اور سورۃ القمر کی قرأت جیسے الفاظ اس حدیث کے لیے مناسب ہیں۔ شرح میں اضافی واقعات شامل کرنے کی ضرورت نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے «فهل من مدكر» کی قرأت ثابت ہے۔
- آیت کے الفاظ نصیحت حاصل کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
- قرآن پڑھتے وقت لفظ کی درست ادائیگی اہم ہے۔
