صحیح بخاری حدیث ۴۹۹۴ - پانچ قدیم یاد کردہ سورتوں کی فضیلت

فضائل قرآن: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یاد کردہ پانچ سورتیں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۹۴

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ بْنِ قَيْسٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ والْكَهْفِ ومَرْيَمَ وطَهَ والْأَنْبِيَاءِ : " إِنَّهُنَّ مِنَ الْعِتَاقِ الْأُوَلِ وَهُنَّ مِنْ تِلَادِي " .

ابن مسعود روایت:

سورۃ بنی اسرائیل، سورۃ الکہف، سورۃ مریم، سورۃ طہٰ اور سورۃ انبیاء کے متعلق بتلایا کہ یہ پانچوں سورتیں اول درجہ کی فصیح سورتیں ہیں اور میری یاد کی ہوئی ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۴۹۹۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کی پانچ سورتوں کا ذکر کیا: سورۃ بنی اسرائیل، سورۃ الکہف، سورۃ مریم، سورۃ طہٰ اور سورۃ الانبیاء۔ انہوں نے ان سورتوں کے بارے میں بتایا کہ یہ اول درجے کی فصیح سورتیں ہیں اور وہ انہیں یاد کر چکے تھے۔ اس روایت کا اصل پیغام قرآن کی سورتوں کی قدر، ان کے حسنِ بیان، اور انہیں یاد رکھنے کی اہمیت سے متعلق ہے۔ یہاں بات خاص طور پر انہی پانچ سورتوں تک محدود ہے، اس لیے اسے عام طور پر فضائل قرآن حدیث، قرآن حفظ کی حدیث، اور پانچ سورتوں کی فضیلت جیسے موضوعات میں تلاش کیا جاتا ہے۔ ایک سادہ سبق یہ ہے کہ قرآن کی سورتیں صرف پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ یاد رکھنے اور دل سے وابستہ رکھنے کے قابل بھی ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا انداز بتاتا ہے کہ وہ ان سورتوں کو اپنی پرانی اور قیمتی یادداشت سمجھتے تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن کی سورتوں کو یاد کرنا صحابہ کرام کے ہاں قابل قدر عمل تھا۔
  • اس روایت میں پانچ خاص سورتوں کا نام لے کر ذکر کیا گیا ہے۔
  • ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سورتوں کو فصیح اور اپنی یاد کردہ سورتیں بتایا۔
  • قرآن سے پرانی وابستگی انسان کے لیے قیمتی علمی سرمایہ بن سکتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں