صحیح بخاری حدیث ۴۸۸ - عرج کے قریب نماز کی جگہ
عرج کے قریب نماز: نالے کے کنارے والی جگہ
صحیح بخاری : ۴۸۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۸
وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي طَرَفِ تَلْعَةٍ مِنْ وَرَاءِ الْعَرْجِ ، وَأَنْتَ ذَاهِبٌ إِلَى هَضْبَةٍ عِنْدَ ذَلِكَ الْمَسْجِدِ قَبْرَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ عَلَى الْقُبُورِ رَضَمٌ مِنْ حِجَارَةٍ عَنْ يَمِينِ الطَّرِيقِ عِنْدَ سَلَمَاتِ الطَّرِيقِ ، بَيْنَ أُولَئِكَ السَّلَمَاتِ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَرُوحُ مِنَ الْعَرْجِ بَعْدَ أَنْ تَمِيلَ الشَّمْسُ بِالْهَاجِرَةِ فَيُصَلِّي الظُّهْرَ فِي ذَلِكَ الْمَسْجِدِ .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریہ عرج کے قریب اس نالے کے کنارے نماز پڑھی جو پہاڑ کی طرف جاتے ہوئے پڑتا ہے۔ اس مسجد کے پاس دو یا تین قبریں ہیں، ان قبروں پر اوپر تلے پتھر رکھے ہوئے ہیں، راستے کے دائیں جانب ان بڑے پتھروں کے پاس جو راستے میں ہیں۔ ان کے درمیان میں ہو کر نماز پڑھی، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قریہ عرج سے سورج ڈھلنے کے بعد چلتے اور ظہر اسی مسجد میں آ کر پڑھا کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے قریہ عرج کے قریب اس جگہ کا ذکر کیا ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔ روایت کے الفاظ کے مطابق یہ جگہ ایک نالے کے کنارے تھی جو پہاڑ کی طرف جاتے ہوئے پڑتا تھا۔ اس مسجد کے پاس دو یا تین قبریں تھیں جن پر پتھر رکھے ہوئے تھے، اور راستے کے دائیں جانب بڑے پتھروں کے پاس یہ مقام آتا تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عرج سے سورج ڈھلنے کے بعد چلتے اور اسی مسجد میں ظہر پڑھتے تھے۔ اس حدیث کا اصل تعلق نبی صلى الله عليه وسلم کے نماز والے مقام، سفر میں ظہر نماز اور صحابی کے نقل کردہ مشاہدے سے ہے۔ اس میں مقام کی شناخت کے لیے قبروں، پتھروں، راستے اور نالے سب کا ذکر کیا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کے نماز والے مقام کو علامات کے ساتھ بیان کیا گیا۔
- ابن عمر رضی اللہ عنہما ظہر اسی جگہ پڑھنے کا اہتمام کرتے تھے۔
- راستے کی سمت اور نشانات حدیث کے بیان کا حصہ ہیں۔
- دینی روایت میں دیکھی ہوئی بات کو واضح الفاظ میں نقل کرنا چاہیے۔
