صحیح بخاری حدیث ۴۸۸۷ - مصنوعی بال لگانے کی ممانعت
مصنوعی بال لگانے کی حدیث: حسن کے نام پر دھوکے سے بچیں
صحیح بخاری : ۴۸۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۸۷
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : ذَكَرْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ حَدِيثَ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ " ، فَقَالَ : سَمِعْتُهُ مِنَ امْرَأَةٍ ، يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، مِثْلَ حَدِيثِ مَنْصُورٍ .
سفیان ثوری روایت:
میں نے عبدالرحمٰن بن عابس سے منصور بن معتمر کی حدیث کا ذکر کیا جو وہ ابراہیم سے بیان کرتے تھے کہ ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے قدرتی بالوں کے ساتھ مصنوعی بال لگانے والیوں پر لعنت بھیجی تھی۔ عبدالرحمٰن بن عابس نے کہا کہ میں نے بھی ام یعقوب نامی ایک عورت سے سنا تھا وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ منصور کی حدیث کے مثل بیان کرتی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۸۷ کا خلاصہ
یہ حدیث مصنوعی بال لگانے کی حدیث سے متعلق ہے۔ اس میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سر کے قدرتی بالوں کے ساتھ مصنوعی بال لگانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ عبدالرحمٰن بن عابس نے ام یعقوب نامی عورت سے اسی مضمون کی بات سنی تھی، جو منصور کی روایت جیسی تھی۔ یہاں بات صرف بالوں کی آرائش کی نہیں، بلکہ اس خاص عمل کی ہے جس میں قدرتی بالوں کے ساتھ دوسرے بال جوڑ کر ظاہری صورت بدلنے کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس حدیث کو بال جوڑنے کی حدیث، مصنوعی بال کی ممانعت اور حسن کے لیے ناجائز تبدیلی جیسے الفاظ سے تلاش کیا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قدرتی بالوں کے ساتھ مصنوعی بال ملانا اس روایت میں ممنوع عمل بتایا گیا ہے۔
- حسن کے نام پر ہر طریقہ اختیار کرنا درست نہیں ہوتا۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی ممانعت کو بہت سنجیدگی سے لیتے تھے۔
