صحیح بخاری حدیث ۴۸۹۷ - ایمان ثریا پر بھی ہو تو
اگر ایمان ثریا پر بھی ہو: سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی قوم کا ذکر
صحیح بخاری : ۴۸۹۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۹۷
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْجُمُعَةِ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ، قَالَ : قُلْتُ : مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَلَمْ يُرَاجِعْهُ حَتَّى سَأَلَ ثَلَاثًا ، وَفِينَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ ، وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ ، ثُمَّ قَالَ : " لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ أَوْ رَجُلٌ مِنْ هَؤُلَاءِ " .
ابوہریرہ روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ سورۃ الجمعہ کی یہ آیتیں نازل ہوئیں «وآخرين منهم لما يلحقوا بهم» الایۃ اور دوسروں کے لیے بھی جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہادی اور معلم ہیں) بیان کیا میں نے عرض کی یا رسول اللہ! یہ دوسرے کون لوگ ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آخر یہی سوال تین مرتبہ کیا۔مجلس میں سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ہاتھ رکھ کر فرمایا اگر ایمان ثریا پر بھی ہو گا تب بھی ان لوگوں (یعنی فارس والوں) میں سے اس تک پہنچ جائیں گے یا یوں فرمایا کہ ایک آدمی ان لوگوں میں سے اس تک پہنچ جائے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۹۷ کا خلاصہ
یہ حدیث ایمان ثریا پر بھی ہو تو والی حدیث کے نام سے مشہور ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ سورۃ الجمعہ کی آیت نازل ہوئی جس میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو ابھی صحابہ میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ، یہ کون لوگ ہیں؟ سوال تین بار ہوا، پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ پر ہاتھ رکھا اور فرمایا کہ اگر ایمان ثریا پر بھی ہو تو ان لوگوں میں سے کچھ لوگ یا ایک آدمی اسے پا لے گا۔ حدیث میں فارس والوں کی ایک خوبی کا ذکر ہے، مگر بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے جو متن میں آئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان اور دین کی طلب بڑی بلند چیز ہے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی قوم کے بارے میں خیر کی خبر دی۔
- کسی قوم کے بارے میں فضیلت بیان ہو تو اسے متن کے دائرے میں سمجھنا چاہیے۔
