صحیح بخاری حدیث ۴۸۹۸ - ایمان تک پہنچنے والے لوگ
ایمان تک پہنچنے کی حدیث: ان کی قوم کے کچھ لوگ اسے پا لیں گے
صحیح بخاری : ۴۸۹۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۹۸
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، أَخْبَرَنِي ثَوْرٌ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَالَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلَاءِ .
ابوہریرہ روایت:
ان کی قوم کے کچھ لوگ اسے پا لیں گے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۹۸ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو مختصر انداز میں بیان کرتی ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ اسے پا لیں گے۔ سیاق میں اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ اگر ایمان بہت بلند جگہ، ثریا کے پاس بھی ہو، تو سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی قوم میں سے لوگ اسے حاصل کر لیں گے۔ اس مختصر حدیث میں اصل زور ایمان کی طلب، علم تک پہنچنے اور اللہ کی ہدایت پر ہے۔ اسے ایمان ثریا پر حدیث، فارس والوں کی فضیلت اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی قوم والی حدیث کے طور پر تلاش کیا جاتا ہے۔ متن مختصر ہے، اس لیے اس سے بڑھ کر دعوے نہیں کرنے چاہییں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان کی طلب انسان کو دور تک لے جا سکتی ہے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کچھ لوگوں کے ایمان تک پہنچنے کی خبر دی۔
- مختصر روایت کو اس کے متعلقہ سیاق کے ساتھ سمجھنا بہتر ہے۔
