صحیح بخاری حدیث ۴۸۹۹ - جمعہ کے خطبہ میں ثابت قدمی
جمعہ کے خطبہ کی حدیث: تجارت دیکھ کر چلے جانے کا واقعہ
صحیح بخاری : ۴۸۹۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۹۹
حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، وَعَنْ أبي سفيان عن جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " أَقْبَلَت غِيرٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَثَارَ النَّاسُ إِلَّا اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11 " .
جابر بن عبداللہ روایت:
جمعہ کے دن سامان تجارت لیے ہوئے اونٹ آئے ہم اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے انہیں دیکھ کر سوائے بارہ آدمی کے سب لوگ ادھر ہی دوڑ پڑے۔ اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها» الایۃ یعنی اور بعض لوگوں نے جب کبھی ایک سودے یا تماشے کی چیز کو دیکھا تو اس کی طرف دوڑے ہوئے پھیل گئے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۹۹ کا خلاصہ
یہ حدیث جمعہ کے خطبہ اور تجارت کے واقعہ سے متعلق ہے۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جمعہ کے دن سامان تجارت والے اونٹ آئے، اور اس وقت لوگ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ تھے۔ تجارت کو دیکھ کر زیادہ لوگ اس طرف چلے گئے، صرف بارہ آدمی باقی رہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ جب انہوں نے تجارت یا تماشا دیکھا تو اس کی طرف منتشر ہو گئے اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیا۔ اس حدیث سے جمعہ کے خطبہ میں توجہ، دینی مجلس کی اہمیت اور دنیاوی فائدے کی کشش سے بچنے کا سبق ملتا ہے۔ متن میں جو واقعہ ہے، بات اسی کے مطابق ہے: لوگ گئے، چند لوگ ٹھہرے، اور آیت نازل ہوئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جمعہ کے خطبہ کے وقت دینی توجہ باقی رکھنی چاہیے۔
- تجارت اور تماشے کی کشش انسان کو غافل کر سکتی ہے۔
- بارہ آدمیوں کا ٹھہرنا ثابت قدمی کی ایک مثال ہے۔
