صحیح بخاری حدیث ۴۹۰۲ - حق بات پر ثابت رہنا
حق بات پہنچانے کی حدیث: زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا واقعہ
صحیح بخاری : ۴۹۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۰۲
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَمَّا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ : لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ، وَقَالَ أَيْضًا : لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ أَخْبَرْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَامَنِي الْأَنْصَارُ ، وَحَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ مَا قَالَ ذَلِكَ ، فَرَجَعْتُ إِلَى الْمَنْزِلِ ، فَنِمْتُ ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ صَدَّقَكَ وَنَزَلَهُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لا تُنْفِقُوا سورة المنافقون آية 7 " الْآيَةَ ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
زید بن ارقم روایت:
جب عبداللہ بن ابی ابن سلول نے کہا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہ بھی کہا کہ اب اگر ہم مدینہ واپس گئے تو ہم سے عزت والا ذلیلوں کو نکال باہر کرے گا تو میں نے یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی۔ اس پر کفار نے مجھے ملامت کی اور عبداللہ بن ابی نے قسم کھا لی کہ اس نے یہ بات نہیں کہی تھی پھر میں گھر واپس آ گیا اور سو گیا۔اس کے بعد مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طلب فرمایا اور میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری تصدیق میں آیت نازل کر دی ہے اور یہ آیت اتری ہے «هم الذين يقولون لا تنفقوا» الخ آخر تک۔اور ابن ابی زائدہ نے اعمش سے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے ابن ابی لیلیٰ نے اور ان سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح نقل کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۹۰۲ کا خلاصہ
یہ حدیث حق بات پہنچانے اور پھر اس پر آنے والی آزمائش کے بارے میں ہے۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن ابی کی بات نبی کریم صلى الله عليه وسلم تک پہنچائی۔ اس نے کہا تھا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس موجود لوگوں پر خرچ نہ کرو، اور مدینہ لوٹنے پر عزت والا ذلیلوں کو نکال دے گا۔ پھر عبداللہ بن ابی نے قسم کھا لی کہ اس نے ایسا نہیں کہا۔ زید رضی اللہ عنہ کو ملامت کا سامنا بھی ہوا۔ وہ گھر واپس آئے اور سو گئے۔ پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری تصدیق میں آیت نازل کر دی ہے۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ کبھی حق بات کہنے والے کو وقتی رنج پہنچتا ہے، مگر اصل فیصلہ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سنی ہوئی اہم بات کو ذمہ داری کے ساتھ پہنچایا جا سکتا ہے۔
- جھوٹی قسم حق کو ہمیشہ کے لیے چھپا نہیں سکتی۔
- زید رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے سچا ثابت فرمایا۔
