صحیح بخاری حدیث ۴۹۰۱ - منافقین کی بات اور اللہ کی تصدیق
سورۃ المنافقون کی حدیث: زید رضی اللہ عنہ کی بات سچی نکلی
صحیح بخاری : ۴۹۰۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۰۱
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كُنْتُ مَعَ عَمِّي ، فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ ابْنَ سَلُولَ ، يَقُولُ : لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا ، وَقَالَ أَيْضًا : لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمِّي ، فَذَكَرَ عَمِّي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ وَأَصْحَابِهِ ، فَحَلَفُوا مَا قَالُوا ، فَصَدَّقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَّبَنِي ، فَأَصَابَنِي هَمٌّ لَمْ يُصِبْنِي مِثْلُهُ قَطُّ ، فَجَلَسْتُ فِي بَيْتِي ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ إِلَى قَوْلِهِ هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ سورة المنافقون آية 1 - 8 ، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَأَهَا عَلَيَّ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ صَدَّقَكَ " .
زید بن ارقم روایت:
میں اپنے چچا (سعد بن عبادہ یا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہما) کے ساتھ تھا میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو کہتے سنا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں ان پر خرچ مت کرو تاکہ وہ ان کے پاس سے بھاگ جائیں۔ یہ بھی کہا کہ اگر اب ہم مدینہ لوٹ کر جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلیلوں کو نکال کر باہر کر دے گا۔میں نے اس کی یہ بات چچا سے آ کر کہی اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلوایا انہوں نے قسم کھا لی کہ ایسی کوئی بات انہوں نے نہیں کہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کو سچا جانا اور مجھ کو جھوٹا سمجھا۔مجھے اس اتنا صدمہ پہنچا کہ ایسا کبھی نہیں پہنچا ہو گا پھر میں گھر کے اندر بیٹھ گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی «إذا جاءك المنافقون» سے «هم الذين يقولون لا تنفقوا على من عند رسول الله» اور آیت «ليخرجن الأعز منها الأذل» تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا اور میرے سامنے اس سورت کی تلاوت کی پھر فرمایا کہ اللہ نے تمہارے بیان کو سچا کر دیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۹۰۱ کا خلاصہ
یہ روایت بھی زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے اسی واقعہ کو بیان کرتی ہے۔ انہوں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس موجود لوگوں پر خرچ نہ کرو تاکہ وہ منتشر ہو جائیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم مدینہ لوٹیں گے تو عزت والا ذلیلوں کو نکال دے گا۔ زید رضی اللہ عنہ نے یہ بات اپنے چچا کو بتائی، پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم تک پہنچی۔ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے قسم کھا کر انکار کیا، جس سے زید رضی اللہ عنہ بہت غمگین ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے سورۃ المنافقون کی آیات نازل فرمائیں، جن میں وہی باتیں آئیں، اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے تمہارے بیان کو سچا کر دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- منافقانہ باتیں کبھی کبھی قسموں کے پیچھے چھپائی جاتی ہیں۔
- زید رضی اللہ عنہ نے سنی ہوئی بات امانت کے ساتھ پہنچائی۔
- اللہ تعالیٰ حق کو ظاہر فرمانے پر قادر ہے۔
