صحیح بخاری حدیث ۴۹۱ - ذی طویٰ میں رات اور فجر

ذی طویٰ میں قیام: مکہ آمد پر فجر کی نماز

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۱

وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ بِذِي طُوًى وَيَبِيتُ حَتَّى يُصْبِحَ يُصَلِّي الصُّبْحَ حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ ، وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي بُنِيَ ثَمَّ ، وَلَكِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ .

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ذی طویٰ میں قیام فرماتے اور رات یہیں گزارا کرتے تھے اور صبح ہوتی تو نماز فجر یہیں پڑھتے۔ مکہ جاتے ہوئے۔ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ ایک بڑے سے ٹیلے پر تھی۔ اس مسجد میں نہیں جو اب وہاں بنی ہوئی ہے بلکہ اس سے نیچے ایک بڑا ٹیلا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۹۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آتے ہوئے مقام ذی طویٰ میں قیام فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات وہیں گزارتے، صبح ہوتی تو نماز فجر اسی جگہ پڑھتے۔ روایت میں نماز کی جگہ کے بارے میں بھی وضاحت ہے کہ وہ موجودہ بنی ہوئی مسجد میں نہیں تھی، بلکہ اس سے نیچے ایک بڑے ٹیلے پر تھی۔ اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے صرف مقام کا نام نہیں بتایا بلکہ اصل مصلّیٰ کی جگہ بھی الگ سے سمجھائی۔ حدیث کا موضوع ذی طویٰ، مکہ آمد، فجر نماز اور نبی صلى الله عليه وسلم کے قیام کی جگہ ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ دینی روایت میں اگر جگہ بدل گئی ہو یا نئی عمارت بن گئی ہو تو اصل مقام کی پہچان بتانا بھی امانت کا حصہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم مکہ آتے ہوئے ذی طویٰ میں رات گزارتے تھے۔
  • فجر کی نماز اسی مقام پر پڑھنے کا ذکر روایت میں آیا ہے۔
  • بنی ہوئی مسجد اور اصل مصلّیٰ کے فرق کو بیان کیا گیا۔
  • صحابی نے مقام کی وضاحت احتیاط سے کی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں