صحیح بخاری حدیث ۴۹۲۷ - وحی سنتے وقت زبان نہ ہلانا
وحی یاد کرنے کی حدیث: لا تحرک بہ لسانک کا آسان مطلب
صحیح بخاری : ۴۹۲۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۲۷
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، وَكَانَ ثِقَةً ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ حَرَّكَ بِهِ لِسَانَهُ " ، وَوَصَفَ سُفْيَانُ يُرِيدُ أَنْ يَحْفَظَهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16 .
ابن عباس روایت:
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اپنی زبان ہلایا کرتے تھے۔ سفیان نے کہا کہ اس ہلانے سے آپ کا مقصد وحی کو یاد کرنا ہوتا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «لا تحرك به لسانك لتعجل به» ”آپ جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان نہ ہلایا کریں، اس کا جمع کر دینا اور اس کا پڑھوا دینا، یہ ہر دو کام تو ہمارے ذمہ ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۹۲۷ کا خلاصہ
یہ حدیث وحی یاد کرنے کی حدیث کے بارے میں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ اپنی زبان ہلاتے تھے۔ راوی سفیان نے بتایا کہ اس کا مقصد یہ تھا کہ وحی اچھی طرح یاد ہو جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ آپ جلدی کے لیے اپنی زبان نہ ہلائیں، اس کا جمع کرنا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے۔ اس حدیث سے یہ بات صاف سمجھ آتی ہے کہ قرآن کی حفاظت اللہ تعالیٰ کے وعدے سے ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معاملے میں اطمینان دلایا گیا کہ وحی آپ کے سینے میں محفوظ کر دی جائے گی اور آپ کو پڑھوا دی جائے گی۔ اس میں قرآن کی حفاظت، وحی کا نزول، اور اللہ کے وعدے پر بھروسے کا مضمون ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وحی کو محفوظ کرنے کی بہت فکر فرماتے تھے۔
- اللہ تعالیٰ نے وحی کو جمع کرنے اور پڑھوانے کی ذمہ داری اپنے ذمہ بیان فرمائی۔
- وحی کے وقت جلدی کرنے کے بجائے اللہ کے حکم کے مطابق چلنا مطلوب تھا۔
- قرآن کی حفاظت کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے وعدے سے وابستہ ہے۔
