صحیح بخاری حدیث ۴۹۲۶ - وحی کا دوبارہ جاری ہونا
وحی کی حدیث: یا ایہا المدثر اور وحی کا تسلسل
صحیح بخاری : ۴۹۲۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۲۶
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ : " فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي قِبَلَ السَّمَاءِ ، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، فَجَئِثْتُ مِنْهُ حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ ، فَجِئْتُ أَهْلِي ، فَقُلْتُ : زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي ، فَزَمَّلُونِي ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ إِلَى قَوْلِهِ فَاهْجُرْ سورة المدثر آية 1 - 5 ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : وَالرِّجْزَ : الْأَوْثَانَ ، ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ وَتَتَابَعَ .
جابر بن عبداللہ روایت:
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ میں نے ابوسلمہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ` میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم درمیان میں وحی کے سلسلے کے رک جانے سے متعلق بیان فرما رہے تھے کہ میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان کی طرف سے آواز سنی۔اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ نظر آیا جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا۔ وہ کرسی پر آسمان اور زمین کے درمیان میں بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اسے دیکھ کر اتنا ڈرا کہ زمین پر گر پڑا۔ پھر میں اپنی بیوی کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو، مجھے کپڑا اوڑھا دو! مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «يا أيها المدثر» سے «والرجز فاهجر» تک ابوسلمہ نے بیان کیا کہ «الرجز» بت کے معنی میں ہے۔ پھر وحی گرم ہو گئی اور سلسلہ نہیں ٹوٹا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۹۲۶ کا خلاصہ
یہ حدیث وحی کی حدیث کے بارے میں بہت اہم بات بتاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ وحی کے سلسلے میں وقفہ آیا، پھر آپ چل رہے تھے کہ آسمان کی طرف سے آواز سنی۔ آپ نے دیکھا تو وہی فرشتہ تھا جو غار حرا میں آیا تھا۔ وہ آسمان اور زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس منظر سے آپ کو سخت خوف محسوس ہوا، یہاں تک کہ آپ زمین پر گر پڑے۔ پھر آپ گھر تشریف لائے اور فرمایا: مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سورہ المدثر کی ابتدائی آیات نازل فرمائیں۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ وحی اللہ کے حکم سے آتی ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھ کر ڈرانے اور شرک سے دور رہنے کا حکم دیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وحی کا آنا اللہ تعالیٰ کے حکم اور وقت کے مطابق تھا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتے کو دیکھا تو طبعی خوف محسوس کیا۔
- سورہ المدثر کی آیات میں اٹھ کر لوگوں کو خبردار کرنے کا حکم آیا۔
- بتوں اور شرک سے دور رہنے کا حکم اس روایت میں صاف بیان ہوا ہے۔
