صحیح بخاری حدیث ۴۹۳۶ - قیامت کے قریب بعثت
قیامت کے قریب ہونے کی حدیث: بعثت اور ساعت کا فاصلہ
صحیح بخاری : ۴۹۳۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۳۶
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِإِصْبَعَيْهِ هَكَذَا بِالْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الإِبْهَامَ: «بُعِثْتُ وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ».
سہل بن سعد روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہا آپ اپنی بیچ کی انگلی اور انگوٹھے کے قریب والی انگلی کے اشارے سے فرما رہے تھے کہ میں ایسے وقت میں مبعوث ہوا ہوں کہ میرے اور قیامت کے درمیان صرف ان دو کے برابر فاصلہ ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۹۳۶ کا خلاصہ
یہ قیامت کے قریب ہونے کی حدیث ہے۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنی درمیانی انگلی اور انگوٹھے کے قریب والی انگلی یعنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔ پھر فرمایا کہ میں ایسے وقت میں مبعوث ہوا ہوں کہ میرے اور قیامت کے درمیان فاصلہ ان دو انگلیوں جیسا ہے۔ اس حدیث میں قیامت کا وقت مقرر کر کے نہیں بتایا گیا، بلکہ قربت کو ایک آسان اشارے سے سمجھایا گیا ہے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت آخری زمانے کی بڑی نشانی ہے، اور انسان کو حساب، آخرت اور عمل کی تیاری کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ یہ بات متن کے اندر قیامت کے قریب ہونے کے بیان سے سمجھ آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت اور قیامت کے قرب کو دو انگلیوں سے سمجھایا۔
- حدیث میں قیامت کی گھڑی کا خاص وقت نہیں بتایا گیا۔
- آخرت کا معاملہ قریب سمجھ کر سنجیدگی اختیار کرنی چاہیے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت قیامت کے قریب ہونے کی نشانی کے طور پر بیان ہوئی۔
