صحیح بخاری حدیث ۶۵۰۳ - میں اور قیامت اتنے قریب بھیجے گئے
قیامت کی قربت: میں اور قیامت دو انگلیوں کی طرح
صحیح بخاری : ۶۵۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۰۳
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ هَكَذَا " ، وَيُشِيرُ بِإِصْبَعَيْهِ فَيَمُدُّ بِهِمَا .
سہل روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں اور قیامت اتنے نزدیک نزدیک بھیجے گئے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کے اشارہ سے (اس نزدیکی کو) بتایا پھر ان دونوں کو پھیلایا۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۵۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اور قیامت اتنے قریب بھیجے گئے ہیں، اور آپ نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ فرمایا۔ اس کا مرکزی موضوع قیامت کی قربت اور آخرت کی تیاری ہے۔ حدیث کا مقصد تاریخ کی تفصیل بتانا نہیں، بلکہ دل کو بیدار کرنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد قیامت کوئی دور کی بے معنی بات نہیں رہی۔ انسان کو اپنی زندگی، اعمال، عبادت، نیت اور حقوق کے بارے میں سنجیدہ ہونا چاہیے۔ جب قیامت کی یاد دل میں ہو تو انسان وقت ضائع کرنے، گناہ کو ہلکا سمجھنے اور آخرت کو بھولنے سے بچتا ہے۔ یہ حدیث مختصر ہے، مگر اس کا پیغام بہت گہرا ہے: تیاری آج ہی سے شروع ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کی یاد انسان کو آخرت کی تیاری کی طرف لاتی ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربت کو دو انگلیوں کے اشارے سے سمجھایا۔
- دنیا کی زندگی کو بے مقصد سمجھ کر نہیں گزارنا چاہیے۔
