صحیح بخاری حدیث ۶۵۰۵ - قیامت کی قربت اور دو انگلیوں کی مثال
دو انگلیوں کی مثال: قیامت کی یاد اور آخرت کی تیاری
صحیح بخاری : ۶۵۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۰۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ " ، يَعْنِي إِصْبَعَيْنِ ، تَابَعَهُ إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں اور قیامت ان دو کی طرح بھیجے گئے ہیں۔ آپ کی مراد دو انگلیوں سے تھی۔“ ابوبکر بن عیاش کے ساتھ اس حدیث کو اسرائیل نے بھی ابوحصین سے روایت کیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور قیامت ان دو کی طرح بھیجے گئے ہیں، اور مراد دو انگلیاں تھیں۔ اس حدیث کا پیغام وہی ہے جو اس باب کی دوسری روایات میں آتا ہے: قیامت کو دور سمجھ کر بھول نہ جاؤ۔ دنیا کی مصروفیات انسان کو اکثر یہ احساس دلا دیتی ہیں کہ ابھی بہت وقت ہے، مگر حدیث دل کو یاد دلاتی ہے کہ آخرت کی تیاری مؤخر کرنے کی چیز نہیں۔ اس میں قیامت کے دن یا تاریخ کی تعیین نہیں، بلکہ قربت کا احساس ہے۔ مسلمان کے لیے بہتر ہے کہ وہ اپنے اعمال، عبادت، توبہ اور لوگوں کے حقوق کے بارے میں سنجیدہ رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کی یاد انسان کو غفلت سے بچاتی ہے۔
- آخرت کی تیاری کو کل پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔
- حدیث میں وقت نہیں بتایا گیا، قربت کا احساس دلایا گیا ہے۔
