صحیح بخاری حدیث ۶۵۰۴ - بعثت نبوی اور قیامت کی قربت
قیامت قریب ہے: نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی مختصر مگر گہری نصیحت
صحیح بخاری : ۶۵۰۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۰۴
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ الجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں اور قیامت ان دونوں (انگلیوں) کی طرح (نزدیک نزدیک) بھیجے گئے ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۵۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور قیامت ان دونوں کی طرح بھیجے گئے ہیں۔ حدیث میں اشارہ دو انگلیوں کی طرف ہے۔ یہ بات انسان کو یاد دلاتی ہے کہ آخرت کوئی بہت دور کا تصور نہیں جسے مسلسل ٹالا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت آخری زمانے کی بڑی نشانی ہے، اس لیے مسلمان کو اپنی زندگی میں آخرت کی تیاری کو جگہ دینی چاہیے۔ اس حدیث سے یہ نہیں نکلتا کہ قیامت کا وقت بتایا گیا ہے، بلکہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی قربت کا احساس دل میں رہنا چاہیے۔ جو شخص قیامت کو یاد رکھتا ہے، وہ اعمال، نیت، حقوق اور گناہوں کے معاملے میں زیادہ محتاط ہو سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کا وقت مقرر نہیں بتایا گیا، مگر اس کی قربت یاد دلائی گئی ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت آخرت کی یاد کو تازہ کرتی ہے۔
- قیامت کا خیال انسان کو عمل کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
