صحیح بخاری حدیث ۶۵۰۲ - فرائض اور نوافل سے اللہ کا قرب
اللہ کا قرب: فرائض سب سے محبوب عبادت ہیں
صحیح بخاری : ۶۵۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۰۲
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَالَ : " مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا ، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا ، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ ، وَلَئِنْ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ يَكْرَهُ الْمَوْتَ ، وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ جن جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے اور کوئی عبادت مجھ کو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے (یعنی فرائض مجھ کو بہت پسند ہیں جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ) اور میرا بندہ فرض ادا کرنے کے بعد نفل عبادتیں کر کے مجھ سے اتنا نزدیک ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اگر وہ کسی دشمن یا شیطان سے میری پناہ مانگتا ہے تو میں اسے محفوظ رکھتا ہوں اور میں جو کام کرنا چاہتا ہوں اس میں مجھے اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا کہ مجھے اپنے مومن بندے کی جان نکالنے میں ہوتا ہے۔ وہ تو موت کو بوجہ تکلیف جسمانی کے پسند نہیں کرتا اور مجھ کو بھی اسے تکلیف دینا برا لگتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۰۲ کا خلاصہ
یہ حدیث قدسی اللہ کے قرب، فرائض، نوافل اور اللہ کے ولی کی عزت کے بارے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے ولی سے دشمنی کی، اس کے لیے میری طرف سے اعلان جنگ ہے۔ پھر فرمایا کہ میرا بندہ جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے، ان میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہیں جو میں نے اس پر فرض کی ہیں۔ اس کے بعد بندہ نفل عبادتوں کے ذریعے قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ اس سے محبت فرماتا ہے۔ حدیث میں یہ بھی بیان ہے کہ اللہ اپنے محبوب بندے کی دعا قبول فرماتا ہے اور پناہ مانگنے پر پناہ دیتا ہے۔ اس حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ قرب الٰہی کا راستہ پہلے فرائض کی پابندی سے شروع ہوتا ہے، پھر نوافل اس میں اضافہ کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے قرب کا سب سے بنیادی راستہ فرائض کی ادائیگی ہے۔
- نوافل بندے کو اللہ کے قریب کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
- اللہ کے محبوب بندوں سے دشمنی سخت خطرے کی بات ہے۔
