صحیح بخاری حدیث ۴۹۴۶ - تقدیر پر بھروسہ نہیں، عمل ضروری ہے
تقدیر اور عمل کی حدیث: مسلمان کو عمل کیوں کرتے رہنا چاہیے؟
صحیح بخاری : ۴۹۴۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۴۶
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ كَانَ فِي جَنَازَةٍ ، فَأَخَذَ عُودًا يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ ، فَقَالَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ ، أَوْ مِنَ الْجَنَّةِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا نَتَّكِلُ ؟ قَالَ : " اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى { 5 } وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى { 6 } سورة الليل آية 5-6 الْآيَةَ ، قَالَ شُعْبَةُ : وَحَدَّثَنِي بِهِ مَنْصُورٌ ، فَلَمْ أُنْكِرْهُ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ .
علی روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ میں تھے، آپ نے ایک لکڑی اٹھائی اور اس سے زمین کریدتے ہوئے فرمایا کہ تم میں کوئی شخص ایسا نہیں جس کا جنت یا دوزخ کا ٹھکانا لکھا نہ جا چکا ہو۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا پھر ہم اسی پر بھروسہ نہ کر لیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کہ ہر شخص کو توفیق دی گئی ہے (انہیں اعمال کی جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے) «فأما من أعطى واتقى * وصدق بالحسنى» ”سو جس نے دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات کو سچا سمجھا“ آخر آیت تک۔شعبہ نے بیان کیا کہ مجھ سے یہ حدیث منصور بن معتمر نے بھی بیان کی اور انہوں نے بھی سلیمان اعمش سے اسی کے موافق بیان کی، اس میں کوئی خلاف نہیں کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۹۴۶ کا خلاصہ
یہ حدیث تقدیر اور عمل کی حدیث کے طور پر بہت اہم پیغام دیتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں تھے اور آپ نے فرمایا کہ ہر شخص کا جنت یا دوزخ کا ٹھکانا لکھا جا چکا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ پھر کیا ہم اسی لکھے ہوئے پر بھروسہ کر لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا: عمل کرتے رہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تقدیر کا عقیدہ انسان کو سستی یا نیکی چھوڑنے کی طرف نہیں لے جاتا۔ مسلمان کا کام یہ ہے کہ اللہ سے ڈرے، اچھی بات کو سچا مانے، اور نیکی کے راستے پر چلے۔ اس حدیث میں سورۃ اللیل کی آیات بھی پڑھی گئیں، جن میں دینے، تقویٰ اختیار کرنے اور اچھی بات کی تصدیق کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تقدیر پر ایمان کے ساتھ نیک عمل کرنا بھی ضروری ہے۔
- جنت یا دوزخ کا فیصلہ اللہ کے علم میں ہے، مگر انسان کو عمل کا حکم دیا گیا ہے۔
- دینا، اللہ سے ڈرنا اور حق کو سچا ماننا نیکی کے راستے سے جڑا ہے۔
- تقدیر کو بہانہ بنا کر عمل چھوڑنا اس حدیث کے مطابق درست رویہ نہیں۔
