صحیح بخاری حدیث ۴۹۵۱ - وحی میں تاخیر اور سورۃ الضحیٰ

وحی میں تاخیر پر سورہ ضحیٰ کی آیت: ما ودعک ربک

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۵۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدُبًا الْبَجَلِيَّ ، قَالَتْ امْرَأَةٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أُرَى صَاحِبَكَ إِلَّا أَبْطَأَكَ ، فَنَزَلَتْ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى سورة الضحى آية 3 .

جندب بجلی روایت:

ایک عورت ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یا رسول اللہ! میں دیکھتی ہوں کہ آپ کے دوست (جبرائیل علیہ السلام) آپ کے پاس آنے میں دیر کرتے ہیں۔ اس پر آیت نازل ہوئی «ما ودعك ربك وما قلى» یعنی ”آپ کے پروردگار نے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ آپ سے وہ بیزار ہوا ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۴۹۵۱ کا خلاصہ

یہ حدیث سورہ ضحیٰ کی آیت ما ودعک ربک وما قلیٰ سے متعلق ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ ایک عورت نے کہا کہ آپ کے دوست یعنی جبرائیل علیہ السلام آنے میں دیر کر رہے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ آپ کے رب نے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ وہ آپ سے بیزار ہوا ہے۔ اس حدیث کا پیغام بہت صاف ہے: وحی کے آنے میں تاخیر کو اللہ کی بے رخی نہیں سمجھا گیا، بلکہ قرآن نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی نازل فرمائی۔ یہ واقعہ وحی، جبرائیل علیہ السلام، اور سورۃ الضحیٰ کے مضمون سے جڑا ہے۔ اس میں اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور دشمنوں کے گمان کو رد فرما دیا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • وحی میں تاخیر کو اللہ کی طرف سے چھوڑ دینا نہیں کہا جا سکتا۔
  • سورۃ الضحیٰ کی آیت نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے لیے تسلی کا پیغام ہے۔
  • جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں وقفہ ہوا تو قرآن نے غلط گمان کا جواب دیا۔
  • اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلى الله عليه وسلم کی شان کا دفاع فرمایا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں