صحیح بخاری حدیث ۴۹۵۲ - عشاء میں سورۃ والتین کی تلاوت
عشاء کی نماز میں سورۃ والتین پڑھنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۹۵۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۵۲
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَدِيٌّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ ، فَقَرَأَ فِي الْعِشَاءِ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ بِ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ سورة التين آية 1 تَقْوِيمٍ سورة التين آية 4 : الْخَلْقِ " .
براء بن عازب روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے اور عشاء کی ایک رکعت میں آپ نے سورۃ والتین کی تلاوت فرمائی تھی۔ «تقويم» کے معنی پیدائش، بناوٹ کے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۹۵۲ کا خلاصہ
یہ حدیث نماز میں قرآن کی تلاوت سے متعلق ہے۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے اور عشاء کی نماز کی ایک رکعت میں آپ نے سورۃ والتین پڑھی۔ اس حدیث کا دائرہ بہت واضح ہے: سفر، عشاء کی نماز، اور ایک رکعت میں سورۃ والتین کی تلاوت۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں قرآن کی تلاوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے، اور اس روایت میں خاص طور پر سورۃ والتین کا ذکر آیا ہے۔ متن میں تقویم کے معنی پیدائش اور بناوٹ بھی بیان ہوئے ہیں۔ اس لیے اس حدیث کو عشاء میں سورۃ والتین، نماز میں تلاوت، اور سفر کی نماز کے عنوان سے تلاش کیا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے سفر میں عشاء کی نماز ادا فرمائی۔
- عشاء کی ایک رکعت میں سورۃ والتین پڑھنے کا ذکر اس حدیث میں آیا ہے۔
- نماز میں قرآن کی تلاوت نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
- حدیث میں تقویم کے معنی پیدائش اور بناوٹ بیان ہوئے ہیں۔
