صحیح بخاری حدیث ۴۹۵۹ - ابی بن کعبؓ کو قرآن سنانے کا حکم
ابی بن کعبؓ کی فضیلت: اللہ نے نام لے کر قرآن سنانے کا حکم دیا
صحیح بخاری : ۴۹۵۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۵۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيٍّ : " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة البينة آية 1 ، قَالَ : وَسَمَّانِي ، قَالَ : نَعَمْ ، فَبَكَى " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں سورۃ «لم يكن الذين كفروا» پڑھ کر سناؤں۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام بھی لیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، اس پر وہ رونے لگے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۹۵۹ کا خلاصہ
یہ حدیث ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں سورۃ لم یکن الذین کفروا پڑھ کر سناؤں۔ ابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام بھی لیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ یہ سن کر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ اس حدیث میں قرآن سننے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت، اور ایک صحابی کے نام کا اللہ کے ہاں ذکر ہونے کا بیان ہے۔ اس کا اصل پیغام عاجزی اور اللہ کے ہاں ذکر ہونے پر دل کے نرم ہو جانے سے متعلق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اللہ کے حکم سے ابی بن کعبؓ کو سورۃ لم یکن سنائی۔
- ابی بن کعبؓ نے پوچھا کہ کیا اللہ نے میرا نام لیا ہے۔
- ہاں کا جواب سن کر ابی بن کعبؓ رونے لگے۔
- یہ روایت قرآن سننے اور صحابی کی فضیلت کا بیان دیتی ہے۔
