صحیح بخاری حدیث ۴۹۶۳ - ذرہ برابر نیکی اور برائی دیکھی جائے گی
ذرہ برابر نیکی کی حدیث: فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره
صحیح بخاری : ۴۹۶۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۶۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحُمُرِ ، فَقَالَ : " لَمْ يُنْزَلْ عَلَيَّ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفَاذَّةُ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ { 7 } وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ { 8 } سورة الزلزلة آية 7-8 " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس اکیلی عام آیت کے سوا مجھ پر اس کے بارے میں اور کوئی خاص حکم نازل نہیں ہوا ہے «فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره * ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره» یعنی ”سو جو کوئی ذرہ برابر نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا اور جو کوئی ذرہ برابر برائی کرے گا وہ اسے بھی دیکھ لے گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۹۶۳ کا خلاصہ
یہ حدیث جزا و سزا کے موضوع کو بہت مختصر مگر جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے بارے میں سوال کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس بارے میں میرے اوپر کوئی خاص حکم نازل نہیں ہوا، سوائے اس ایک جامع آیت کے: جو کوئی ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا، اور جو کوئی ذرہ برابر برائی کرے گا وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔ اس حدیث میں اصل توجہ اسی اصول پر ہے کہ انسان کا چھوٹا عمل بھی بے معنی نہیں۔ نیکی ہو یا برائی، اللہ کے ہاں اس کا حساب ہے۔ متن میں گدھوں کا سوال آیا، مگر جواب ایک عام اصول کی صورت میں دیا گیا جو ہر نیکی اور ہر برائی کو شامل کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ذرہ برابر نیکی بھی اللہ کے ہاں ضائع نہیں ہوتی۔
- ذرہ برابر برائی بھی انسان کے سامنے آئے گی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے گدھوں کے سوال پر ایک جامع آیت کے ذریعے جواب دیا۔
- یہ حدیث انسان کو اپنے چھوٹے اعمال پر بھی دھیان دینے کی یاد دہانی کراتی ہے۔
